#نماز
🌹🌹حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤 لَيْسَ عَمَلٌ أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ الصَّلَاةِ فَلَا يَشْغَلَنَّكُمْ عَنْ أَوْقَاتِهَا شَيْءٌ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ ذَمَّ أَقْوَاماً فَقَالَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ يَعْنِي أَنَّهُمْ غَافِلُونَ اسْتَهَانُوا بِأَوْقَاتِهَا۔
🔵 خدائے عزّ و جلّ کے نزدیک نماز سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، لہذا کوئی دنیاوی کام آپ کو اوقاتِ نماز سے غافل نہ کرنے پائے؛ کیونکہ خدا نے ایسے لوگوں کی مذمّت کی ہے اور فرمایا ہے: الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلاتِهِمْ ساهُونَ یعنی وہ لوگ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں اور اس کے وقت کی کوئی پروا نہیں کرتے۔
📚 الخصال، ج۲، ص۶۲۱، علم أمير المؤمنين ع أصحابه في مجلس واحد أربعمائة باب مما يصلح للمسلم في دينه و دنياه
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے، تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی دوسرا کام نماز کی جگہ نہیں لے سکتا اور نہ ہی اسے نماز پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔
حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کا نماز کے اوقات پر خصوصی زور دینا اس نکتے کی جانب اشارہ کررہا ہے کہ صرف نماز کا کسی طرح پڑھ لینا مقصود نہیں ہے؛ بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ ہم اپنی روزمرّہ کی مصروفیات کے درمیان، جیسے ہی نماز کا وقت آئے، اسے دوسرے کاموں پر ترجیح دے سکیں۔
آپ علیہ السلام کے ارشاد کا واضح پیغام یہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی مصروفیت اس قدر اہم نہیں کہ وہ اس بہترین عمل کی جگہ لے سکے اور ہمیں اس کی برکات اور ثمرات سے محروم کردے۔
لہٰذا نماز کو جان بوجھ کر آخری وقت تک ٹالتے رہنا محض ایک معمولی کوتاہی نہیں؛ بلکہ نماز کے وقت کی اہمیت کو نظرانداز کرنا ہے۔
https://www.facebook.com/klmnoor
