#سماعت
#ہم_کیا_سن_رہے_ہیں؟
🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام:
🟤
لَيْسَ لَكَ أَنْ تَسْمَعَ مَا شِئْتَ لِأَنَّ اَللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ إِنَّ اَلسَّمْعَ وَ اَلْبَصَرَ وَ اَلْفُؤٰادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كٰانَ عَنْهُ مَسْؤُلاً۔🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو سنتے رہو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بیشک کان، آنکھ اور دل ان سب سے باز پرس ہوگی۔
📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۶، ح۸۰ باب نوادر العلل
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 انسان اپنے اردگرد کی دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتا، بلکہ کانوں سے سنتا اور دل سے اسے قبول کرتا ہے یا رد کر دیتا ہے۔
جب ہم دوسروں کی باتیں سنتے ہیں تو ان سے کچھ سیکھتے ہیں اور نئی چیزوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔
ہماری سنی ہوئی بات صرف آواز بن کر ہمارے کانوں سے نہیں گزرتی بلکہ ہمارے دل و دماغ، مزاج اور کردار پر اثر چھوڑ جاتی ہے۔
چنانچہ حضرت امام سجاد علیہ السلام ایک روایت میں کان کے حق کو واضح کرتے ہوئے اسے باتوں کو دل میں اتارنے کا دروازہ قرار دیتے ہیں:
▫️
أَمَّا حَقُّ السَّمْعِ فَتَنْزِيهُهُ عَنْ أَنْ تَجْعَلَهُ طَرِيقاً إِلَى قَلْبِكَ إِلَّا لِفُوَّهَةٍ كَرِيمَةٍ تُحْدِثُ فِي قَلْبِكَ خَيْراً أَوْ تَكْسِبُ خُلُقاً كَرِيماً فَإِنَّهُ بَابُ الْكَلَامِ إِلَى الْقَلْبِ يُؤَدِّي إِلَيْهِ ضُرُوبُ الْمَعَانِي عَلَى مَا فِيهَا مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرٍّ۔▫️ اور کان کا حق یہ ہے کہ اسے ایسی نیک بات کے سوا، جو تمہارے دل میں نیکی پیدا کرے یا تمہیں اچھا اخلاق عطا کرے، دوسری باتوں کے لیے دل تک پہنچنے کا راستہ بنانے سے محفوظ رکھو۔ کیونکہ کان دل تک پہنچنے والی باتوں کا دروازہ ہے، جس کے ذریعے مختلف معانی اس تک پہنچتے ہیں، خواہ اچھے ہوں یا برے۔
📚 تحف العقول، ص۲۵۷۔ رسالته ع المعروفة برسالة الحقوق
حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنی نصیحت میں نشست و برخاست اور گفتگو کے حدود بیان کرتے ہوئے سماعت کے بارے میں بھی تاکید فرماتے ہیں کہ تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو سنتے رہو۔
یعنی اس بات کا خیال رہے کہ جو ہم سن رہے ہیں اور اپنے دل میں اتار رہے ہیں، کیا وہ شریعت کے مطابق بھی ہے؟ اس سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا؟ اگر کہیں غیبت ہو رہی ہو یا جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہوں تو کیا ہم اسے سن کر اپنی شخصیت میں کچھ اضافہ کریں گے؟ کیونکہ انسان نشست و برخاست اور گفتگو کی طرح اپنی سماعت کا بھی ذمہ دار ہے۔
لہٰذا کسی چیز کو سننے سے پہلے غور کریں:
میں روزانہ کیسی باتیں اپنے ذہن میں داخل کرتا ہوں؟
کیا اس سے میرے علم اور اخلاق میں کچھ اضافہ ہوتا ہے؟
کہیں ایسی چیزیں نفرت، بدگمانی اور بے حیائی تو پیدا نہیں کر رہیں؟
اسی لیے جہاں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اچھی باتیں سننے کی تاکید فرماتے ہیں:
▫️
إذا لَم تَكُن عالِما ناطِقا فَكُن مُستَمِعا واعِيَا۔▫️ اگر بولنے والے عالم نہیں ہو تو توجه سے سننے اور یاد رکھنے والے بنو۔
📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ۴۳، طلب العلم
وہیں بیہودہ باتوں پر کان لگانے سے منع فرماتے ہوئے اس کے نتائج سے آگاہ کرتے ہیں:
▫️
عَوِّدْ أُذُنَكَ حُسْنَ الِاسْتِمَاعِ وَ لَا تَصْغِ إِلَى مَا لَا يَزِيدُ فِي صَلَاحِكَ اسْتِمَاعُهُ فَإِنَّ ذَلِكَ يُصْدِي الْقُلُوبَ وَ يُوجِبُ الْمَذَامَّ▫️ اپنے کان کو اچھے سے سننے کا عادی بناؤ اور ان چیزوں پر کان نہ لگاؤ جو تمہاری بھلائی میں اضافہ نہ کریں، کیونکہ ایسی باتیں دلوں کو زنگ آلود کرتی ہیں اور ملامت کا باعث بنتی ہیں۔
📚 تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص۲۱۵، ح۴۲۱۱، متفرقات
سماعت کی پاکیزگی اس میں ہے کہ انسان اپنے کانوں کو علم، حکمت، خیر اور اصلاح کے لیے استعمال کرے اور ایسی چیزوں سے بچے جو اس کے ایمان، اخلاق اور قلب کو خراب کرتی ہیں۔
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor


