#اعتماد
#دو_نعمتوں_پر
#صحت_و_دولت
🌹🌹 حضرت امام علی علیہ السلام:
🟤 لَا يَنْبَغِي لِلْعَبْدِ أَنْ يَثِقَ بِخَصْلَتَيْنِ الْعَافِيَةِ وَ الْغِنَى بَيْنَا تَرَاهُ مُعَافًى إِذْ سَقِمَ وَ بَيْنَا تَرَاهُ غَنِيّاً إِذِ افْتَقَرَ۔
🔵 کسی بندے کے لئے مناسب نہیں کہ وہ دو چیزوں پر بھروسہ کرے: ایک صحت اور دوسرے دولت؛ کیونکہ ابھی تم کسی کو تندرست دیکھ رہے تھے کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے بیمار پڑجاتا ہے اور ابھی تم اسے دولتمند دیکھ رہے تھے کہ فقیر و نادار ہوجاتا ہے۔
📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۵۱، ح [۴۳۵] ۴۲۶۔
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اس حکیمانہ ارشاد میں دنیا کی نعمتوں کے ناپائیدار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے، اور خاص طور پر دو بڑی نعمتوں یعنی صحت اور بے نیازی کی طرف توجہ دلائی ہے۔
اکثر ہم لوگوں نے اپنی زندگی میں اس کی متعدد مثالیں دیکھی ہیں: تندرست اور طاقتور لوگ اچانک بیمار ہو کر بستر پر پڑ گئے اور حرکت کے قابل نہ رہے۔ جی ہاں! انسان کتنا نازک ہے۔ ایک نہایت چھوٹا سا جرثومہ، یا اس سے بھی چھوٹا وائرس جو خردبین سے بھی مشکل سے نظر آتا ہے، انسان کو گرا سکتا ہے، سرطان جیسی خطرناک بیماری ایک خلیے کی سرکشی سے شروع ہوتی ہے اور بڑھتے بڑھتے ایک طاقتور انسان کو ہلاک کر دیتی ہے، دل کی ایک چھوٹی سی رگ خون کے معمولی جمے ہوئے ذرّے سے بند ہو کر دل کے دورے کا سبب بن سکتی ہے، اور دماغ کی باریک رگیں اگر کسی سبب سے پھٹ جائیں تو جسم کا کوئی اہم حصہ مفلوج ہو سکتا ہے۔
اس کے باوجود انسان کیسے مغرور ہوجاتا ہے اور یہ گمان کرلیتا ہے کہ اس کی صحت ہمیشہ باقی رہے گی، اور جو کچھ اس کے بس میں ہے وہ کر گزرے، اور جس پر چاہے ظلم و ستم کرے؟!
انسان کی بڑی سے بڑی دولت اور مال کا حال بھی کوئی اس سے بہتر نہیں؛ ایک ہولناک آگ، زلزلہ، قحط، عالمی معیشت کا ایک اتار چڑھاؤ، ایک مقامی یا عالمی جنگ، ان سب کو برباد کرسکتی ہے۔ آدمی رات کو اس حال میں سوتا ہے کہ اپنے معاشرے کا امیر ترین شخص ہوتا ہے، اور صبح غریب ترین لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ کسی شاعر کے بقول:
بر مال و جمال خويشتن غره مشو *** كان را به شبى برند و اين را به تبى
اپنے مال اور جمال پر مغرور مت ہو، کیونکہ ایک کو رات میں اٹھا لیا جاتا ہے تو دوسرے کو بخار میں۔
کیا اس صورتِحال میں انسان کو زیب دیتا ہے کہ اپنے مال پر مغرور ہو؟
یہی مفہوم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے ایک ارشاد میں اس طرح آیا ہے:
▫️ مَا الْمُبْتَلَى الَّذِي قَدِ اشْتَدَّ بِهِ الْبَلَاءُ بِأَحْوَجَ إِلَى الدُّعَاءِ- [مِنَ الْمُعَافَى] الَّذِي لَا يَأْمَنُ الْبَلَاءَ.
▫️ جو شخص سخت مصیبت میں مبتلا ہے، وہ اس شخص سے زیادہ محتاجِ دعا نہیں جو فی الحال عافیت میں ہے لیکن نہیں معلوم کہ کب مبتلا ہوجائے۔
[نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۲۸، ح [۳۰۸] ۳۰۲]
📚 پیام امام امیر المومنین علیہ السلام، آیۃ اللہ مکارم شیرازی دام ظلہ، ج۱۵، ص۴۲۳ سے مأخوذ
