#مداومت
#محبوب_ترین_عمل
🌹🌹 حضرت امام باقر علیہ السلام:
🟤 أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، وَ إِنْ قَلَّ.
🔵 اللہ عزّ و جلّ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر بندہ پابندی کے ساتھ قائم رہے، خواہ اس کی مقدار کم ہی کیوں نہ ہو۔
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج۲، ص۸۲، ح۲، باب استواء العمل و المداومة عليه
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 اکثر ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ بڑے کام اور سخت عبادتیں ہی بہترین اعمال ہیں اور اسی میں اللہ کی خوشنودی اور قربت ہے۔ جبکہ مذکورہ ارشاد کے مطابق عمل کی مقدار سے کہیں زیادہ اہم اس کا تسلسل ہے۔
بسا اوقات ہم جوش و جذبے کے ساتھ کوئی نیک کام بڑے پیمانے پر شروع کرتے ہیں مگر جلد ہی اکتا کر اسے چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ اگر عمل تھوڑا ہوتا تو ممکن تھا کہ نہ ایسی تھکاوٹ آتی جو انسان کو ملول کردے اور نہ اس کا سلسلہ رکتا۔
تھوڑا مگر پابندی سے کیا جانے والا عمل اس لیے زیادہ محبوب ہے کہ تھوڑے عمل پر مداومت سے اطاعت اور بندگی کا سلسلہ قائم رہتا ہے، اور وہ عمل ہماری طرزِ زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔
انہی چھوٹے مگر مسلسل اعمال سے روح و جان کو تازگی ملتی رہتی ہے اور بار بار انجام دینے سے اللہ کے ساتھ دائمی تعلق قائم رہتا ہے۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان کچھ عرصہ عبادت کرے اور پھر اسے بالکل ہی ترک کر دے۔
جیسا کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
▫️قَلِيلٌ تَدُومُ عَلَيْهِ، أَرْجَى مِنْ كَثِيرٍ مَمْلُولٍ مِنْهُ۔
▫️وہ عمل جو پابندی سے بجا لایا جائے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے جس سے دل اکتا جائے۔
📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۵۲۵، ح[۲۸۴] ۲۸۷۔
