علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

ہفتہ، 12 مئی، 2018

استقبال ماہ رمضان


#رمضان_کریم

✍🏼جناب ابا صلت فرماتے ہیں: 

ماہ شعبان کا آخری جمعہ تھا، میں حضرت ابو الحسن علی بن موسی الرضا (علیہ آلاف التحیۃ و الثناء) کی خدمت میں حاضر ہوا۔

🌹امام علیہ السلام نے فرمایا:

اے ابا صلت! ماہ شعبان کا بیشتر حصّہ جا چکا ہے، اور یہ آخری جمعہ ہے۔ لہذا اپنی گذشتہ کوتاہیوں کی شعبان کے ان بچے ہوئے ایّام میں تلافی کرلو۔
ان چیزوں کو انجام دو جو تمہارے واسطے مفید ہوں اور جس کا کوئی فائدہ نہیں انہیں چھوڑ دو۔

زیادہ سے زیادہ دعا کرو، کثرت سے استغفار کرو، خوب تلاوت قرآن کرو، اور خدا کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ کرو تاکہ خدا کا مہینہ اس طرح تمہاری طرف آئے کہ تم خدائے عزّ و جلّ کے لئے مخلص بن چکے ہو۔

اور تمہاری گردن پر کوئی ایسی امانت نہ ہو سوائے یہ کہ اسے ادا کردیا ہو، اور کوئی ایسا بغض و کنیہ نہ بچے مگر یہ کہ اسے دل سے نکال پھینکا ہو، اور کوئی ایسا گناہ نہ بچے مگر جسے تم نے ترک نہ کردیا ہو۔

خدا کا تقوی اختیار کرو اور خفیہ و علانیہ ہر کام میں خدا پر بھروسہ کرو۔ (اور جو خدا پر بھروسہ کرے گا خدا اس کے لئے کافی ہے بیشک خدا اپنے حکم کا پہونچانے والا ہے اس نے ہر شے کے لئے ایک مقدار معین کردی ہے)

✅اور ماہ شعبان کے جو دن باقی رہ گئے ہیں اس میں دعا کرتے رہو:

📗اللَّهُمَّ إِنْ لَمْ تَكُنْ قَدْ غَفَرْتَ لَنَا فِي مَا مَضَى مِنْ شَعْبَانَ فَاغْفِرْ لَنَا فِيمَا بَقِيَ مِنْهُ۔

بارالہا! اگر تو نے شعبان کے گذرے ہوئے ایّام میں ہمیں اپنی مغفرت سے نہیں نوازا تو اس ماہ کے ان بقیہ دنوں میں بخش دے۔

🔺کیونکہ خدائے متعال اس مہینہ میں ماہ مبارک رمضان کے احترام میں عذاب جہنم سے نجات عطا کرتا ہے۔

📚عيون أخبار الرضا عليه السلام، ابن بابويه، محمد بن على، ج‏2، ص51، باب فيما جاء عن الرضا ع من الأخبار المجموعة

🍀🍃🌱🌿☘️



امام عصر عج کو اذیت


#مہدویت

🔸مہدوی سماج میں افراط و تفریط ممنوع❌


🔸ائمہ ہدی، رسول خدا اور خدا کی معرفت لازم✅

🔸ورنہ امام عصر عج کی اذیت دینے والا کوئی اور نہیں

📗قدْ آذانا جُهَلاءُ الشّیعَهِ وَحُمَقاؤُهُمْ، وَمَنْ دینُهُ جِناحُ الْبَعُوضَهِ أَرْجَحُ مِنْهُ

🌹حضرت ولی عصر عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف۔

🗒شیعوں میں سے نادان و جاہل اور احمق، اور اسی طرح وہ لوگ جنکی دینداری پر مچھر کا پَر بھی بھاری اور مضبوط ہے ہمیں اذیت پہونچاتے ہیں۔

📚الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج‏2، ص474، احتجاج الحجة القائم المنتظر المهدي صاحب الزمان صلوات الله عليه و على آبائه الطاهرين

📚بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏25، ص267، باب 10 نفي الغلو في النبي و الأئمة صلوات الله عليه و عليهم و بيان معاني التفويض و ما لا ينبغي أن ينسب إليهم منها و ما ينبغي 

✍🏼حضرت امام عصر (عجّل اللّہ فرجہ الشریف) کی توقیع کا ایک جز ہے جسے آپ (عج) نے محمد بن علی بن ہلال کرخی کے جواب میں لکھا، یہ توقیع ان غالیوں کے مذمت میں ہے جو ائمہ علیہم السلام کو خدا کے علم و قدرت میں شریک ٹھہراتے ہیں اور اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

⚠️شیعوں کی عظیم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ائمہ کی معرفت حاصل کریں؛ نہ انہیں عام لوگوں کے برابر لے آئیں اور نہ ہی علم و قدرت۔۔۔۔ میں خدا کا شریک بنا دیں۔

⚠️ائمہ علیہم السلام کی معرفت اور ان کے مقام و منزلت اور ان کی ذمہ داریوں کے سلسلہ میں کافی احادیث موجود ہیں کہ اگر ان کا صحیح مطالعہ کیا جائے تو قلب و جگر، روح و جان کی تطہیر ہوجائے گی، اور ائمہ و رسول و خدا پر جس طرح کا عقیدہ ہونا چاہئے، اس سے کافی حد تک قریب ہوجائیں گے۔

⚠️غالیوں کے اعمال و کردار اور ان کے اعتقاد ہی سبب بنے ہیں کہ مذہب حقّہ یعنی شیعیّت کے دشمن شیعوں پر کفر کی مہر لگادیں اور کچھ تو انہیں نجس ہی ماننے لگیں اور قتل کے فتوے صادر کرنے لگیں۔

🌹حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے بھی اسی طرف متوجہ فرمایا تھا:

📗هلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَال‏

🗒میرے سلسلہ میں دو لوگ ہلاکت میں پڑے ہونگے۔ ۱۔ میرا ایسا چاہنے والا جو میری محبت میں غلو کرتا ہو۔ ۲۔ مجھ سے بغض و عناد رکھنے والا جو تفریط سے کام لے بیہودہ باتیں کرے۔

📚نهج البلاغة (للصبحي صالح)، حکمت117، ص489. 

🌷🌷🌷🌷🌷

بدھ، 9 مئی، 2018

#مہدویت

🔸مہدوی سماج کی ایک جھلک🔸

🌹حضرت امام باقر علیہ السلام:

🔹قيلَ لِأَبِي جَعْفَرٍ الْبَاقِرِ ع إِنَّ أَصْحَابَنَا بِالْكُوفَةِ جَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ فَلَوْ أَمَرْتَهُمْ لَأَطَاعُوكَ وَ اتَّبَعُوكَ فَقَالَ يَجِي‏ءُ أَحَدُهُمْ إِلَى كِيسِ أَخِيهِ فَيَأْخُذُ مِنْهُ حَاجَتَهُ فَقَالَ لَا قَالَ فَهُمْ بِدِمَائِهِمْ أَبْخَلُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ النَّاسَ فِي هُدْنَةٍ نُنَاكِحُهُمْ‏ وَ نُوَارِثُهُمْ‏ وَ نُقِيمُ عَلَيْهِمُ الْحُدُودَ وَ نُؤَدِّي‏ أَمَانَاتِهِمْ حَتَّى 

🌷إذَا قَامَ الْقَائِمُ جَاءَتِ الْمُزَايَلَةُ وَ يَأْتِي الرَّجُلُ إِلَى كِيسِ أَخِيهِ فَيَأْخُذُ حَاجَتَهُ لَا يَمْنَعُهُ.🌷

🔸حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے کہا گیا کہ کوفہ میں ہماری کثیر تعداد موجود ہے کہ اگر آپ انہیں (قیام کا) کا حکم فرمائیں تو وہ آپ کی اطاعت اور پیروی کریں گے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا ایسا ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے برادر ایمانی کی جیب سے اپنی ضرورت کی چیز نکال لے؟؟ ۔ اس نے کہا: نہیں۔ آپ (ع) نے فرمایا: تب تو (جو اپنی چیزوں کو بخش دینے میں اتنے بخیل ہیں) اپنا خون دینے میں اس کہیں زیادہ بخیل اور کنجوس ہونگے۔ اس کے بعد فرمایا: لوگ ابھی خاص شرائط میں زندگی بسر کررہے ہیں (اسلامی تربیت کی تحریک اپنی جگہ رکی ہوئی ہے) ہم ان سے شادیاں رچاتے ہیں، ایک دوسرے سے ارث لیتے ہیں، حدود الہی قائم کرتے ہیں، امانت کو واپس پلٹاتے ہیں۔ (یعنی ہماری اسلامی زندگی بس انہیں چیزوں میں سمٹی ہوئی ہے)

👈🏼لیکن

🌷جب امام قائم (عجلّ اللّہ تعالی فرجہ الشریف) قیام فرمائیں گے  سب چیز مساوات اور یکسانیت پر ہوگی( صداقت و رفاقت کا دور دورہ ہوگا) ، اور ضرورتمند شخص اپنے برادر ایمانی کی جیب سے اپنی ضرورت کا پیسہ نکال لے گا اور وہ اسے منع نہیں کرے گا۔🌷

📚الإختصاص، شیخ مفید، ص24، طائفة من أقوال النبي ص و الأئمة ع
📚وسائل الشيعة، شيخ حر عاملى‏، ج‏5، ص121۔ (کچھ کمی بیشی کے ساتھ)
📚بحار الأنوار (ط - بيروت)، علامہ مجلسى‏، ج‏52، ص372، باب 27 سيره و أخلاقه و عدد أصحابه و خصائص زمانه و أحول أصحابه صلوات الله عليه و على آبائه

🌷🌷🌷🌷🌷