#رزق_حلال
#گناہ_اور_اس_کے_اثرات
▫️ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:
◽️ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ الْخَلْقَ، وَخَلَقَ مَعَهُمْ أَرْزَاقَهُمْ حَلَالًا طَيِّبًا؛ فَمَنْ تَنَاوَلَ شَيْئًا مِنْهَا حَرَامًا، قُصَّ بِهِ مِنْ ذَلِكَ الْحَلَالِ.
◽️ بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو خلق فرمایا، اور ان کے ساتھ ہی ان کے لیے پاکیزہ اور حلال رزق بھی خلق فرمایا۔ پھر جو شخص اس میں سے کسی چیز کو حرام طریقے سے حاصل کرتا ہے، تو اس کے حلال رزق میں سے اتنی ہی مقدار کم کر دی جاتی ہے۔
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج۵، ص۸۱، ح۵، باب الإجمال في الطلب
✍🏼 یہ حدیث نظامِ الٰہی کے ایک نہایت دقیق اور اہم اصول کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے جو رزق مقدر فرمایا ہے، وہ ابتدا ہی سے پاکیزہ اور حلال ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی آمدنی حاصل کرنے کے لیے ناجائز اور حرام ذرائع اختیار کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اپنی روزی میں کوئی اضافہ نہیں کرتا، بلکہ جتنا حلال رزق اسے ملنا تھا، اسی میں سے اتنا حصہ ضائع کر کے اس کی جگہ حرام مال لے آتا ہے۔ اس طرح حرام روزی، حلال رزق پر اضافہ نہیں ہوتی، بلکہ اسی میں سے کمی کا سبب بنتی ہے۔
https://www.facebook.com/klmnoor
