#عمل_بغیر_علم_و_بصیرت
▫️ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
◽️ اَلْعَامِلُ عَلَى غَيْرِ بَصِيرَةٍ كَالسَّائِرِ عَلَى غَيْرِ الطَّرِيقِ لَا يَزِيدُهُ سُرْعَةُ السَّيْرِ إِلَّا بُعْداً.
◽️ بغیر فہم و بصیرت کے عمل کرنے والا غلط راستے پر چلنے والے کی طرح ہے؛ وہ جتنا تیزی سے چلتا ہے، اتنا ہی اپنی منزل سے دور ہوتا جاتا ہے۔
📚 الكافي (ط - الإسلامية)، ج۱، ص۴۳، ح۱، باب من عمل بغير علم
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 یہ حدیث ایک نہایت اہم، عقلی اور آفاقی اصول بیان کر رہی ہے: "رفتار سے زیادہ اہم، صحیح سمت کا انتخاب ہے"۔
اگر انسان صحیح فہم اور بصیرت کے بغیر کوئی قدم اٹھائے تو اس کی مثال ایسے مسافر کی سی ہے جو غلط راستے پر پوری تیزی سے سفر کر رہا ہو۔ ایسی صورت میں محنت اور تیز رفتاری اسے منزل تک نہیں پہنچاتی، بلکہ اسے اپنی منزل سے مزید دور کر دیتی ہے اور غلطی کی تلافی بھی زیادہ دشوار ہو جاتی ہے۔
دنیاوی معاملات میں یہ حقیقت بہت نمایاں ہے؛ جذبات یا بغیر سوچے سمجھے کیے گئے فیصلے، خواہ ان پر کتنا ہی وقت، محنت اور سرمایہ صرف کیا جائے، اکثر عمر اور وسائل کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔
دینی معاملات میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر عمل کی قدر و قیمت صحیح معرفت اور نیّت سے وابستہ ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھے اور جانے بغیر، محض اپنی پسند، ذاتی رائے یا اندھی تقلید اور تعصّب کی بنیاد پر عمل کرتا ہے، وہ حقیقی معنی میں بندگی نہیں کر رہا؛ کیونکہ اطاعت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان یہ جان لے کہ اس کا پروردگار اس سے درحقیقت کیا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کا عمل اپنی مرضی کا کام ضرور ہے خدا کی عبادت نہیں۔
اس لیے بصیرت سے خالی عمل، خواہ بظاہر کتنا ہی اچھا دکھائی دے، انسان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب نہیں کرتا، بلکہ بعض اوقات اسے حقیقتِ بندگی اور اللہ کی رضا سے مزید دور کر دیتا ہے۔
