علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

جمعرات، 2 نومبر، 2017

سفیر کربلا، زینب سلام اللہ علیہا

.

 زینب (س) سفیر کربلا
 
سید ذیشان حیدر زیدی
کربلا کبھی ایک صحرا ہوا کرتا تھا، ایک زمین تھی، ایک علاقہ کا نام تھا، لیکن تاریخ کا ایک ایسا موڑ آیا کہ کربلا ایک تحریک میں بدل گئی، ایک عالمی یونیورسٹی کی صورت اختیار کرگئی جہاں ایک دونہیں ہزارہا درس عمل ملتے ہیں، جہاں بغیر تفریق مذہب و ملت سبھی زانوئے ادب تہ کئے نظر آتے ہیں، ایک ایسی کتاب بن گئی کہ جس کا جتنا بھی مطالعہ کیا جائے علم  کی پیاس بجھ نہ سکے، جتنا پڑھا جائے وہ کتاب تازی ہی رہے۔
یزید نابکار اور ابن مرجانہ نے اپنے خیال میں یہی سمجھ رکھا تھا کہ یہ چند لوگوں کا لشکر ہے  اور کچھ روز کی بات، ادھر حسین(ع) شہید ہوئے ادھر درس ایمان و دین،پیغام حریت کا گلا  گھونٹ دیا جائے گا؛ لیکن جتنا ظالموں نے تحریک کربلا کو دبانا چاہا، شمع ہدایت کو بجھانا چاہا، اس کی روشنی بڑھتی گئی۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پیغام کربلاکے عام کرنے میں عقیلہ بنی ہاشم جناب زینب(س) کا نمایاں کردار رہا ہے۔
کوئی بھی تحریک ہو،  اسکا  ایک حصہ خون  ہے تو دوسرا اس کا پیغام، کربلا کی تحریک کو بھی جتنی خون حسین(ع) کی ضرورت تھی اتنا ہی زینب (س) کے خون جگر کی۔ چنانچہ اس کے آثار  آپ (س)کے بچپنے سے ہی دیکھے جاسکتے ہیں: مورخین  لکھتے ہیں کہ امام حسین(ع) جناب زینب(س) کے لئے خاص احترام کے قائل تھے اور جب بھی آپ(س) ان کے پاس آتی تھیں کھڑے ہوجاتے، اپنی جگہ بٹھاتے تھے۔(۱)
ایک مرتبہ حضرت زہرا(س) نے  حضرت رسول خدا(ص) سے ان بہن بھائی کی محبت پر اظہار تعجب فرمایا، تو  حضرت رسول خدا(ص) نے آہ سر دکھینچی، آنکھیں اشکبار ہوگئیں؛ فرمایا: میری بیٹی زینب(س) حسین(ع) کے ساتھ کربلا جائے گی اور مختلف طرح کی مصیبتیں برداشت کرے گی۔ (۲)
مقاتل میں ذکر ہے جب حضرت علی (ع) نے عبداللہ بن جعفر سے جناب زینب(س) کی شادی کی، تو یہ شرط رکھی کہ اگر حسین  سفر کا ارادہ کریں اور زینب ساتھ میں جانا چاہیں تو عبد اللہ اسے نہ روکیں۔(۳)
 جب عبد اللہ بن عباس نے امام حسین(ع) سے کہا: ’’ فما معنی حملک ھولاء النساء‘‘ خواتین کو لے جانے کا مقصد کیا ہے؟  تو جناب زینب(س) نے محمل سے آواز دی: اے ابن عم! مجھ سے میرے بھائی کو علاحدہ کرنا چاہتے ہو۔(۴) اور پھر  ورود کربلا سے  لے کرعاشور تک  کے واقعات اور لمحہ بہ لمحہ آپ کا اور امام حسین(ع) کا ساتھ اس بات پر گواہ ہے کہ یہ سب تمہید تھی اس رسالت کے لئے جو عصر عاشور کے بعد آپ(س) کے کاندھوں پر آنے والی تھی۔ جہاں  ایک طرف امامت کی حفاظت کرنا تھی اور اسے ظلم کے سفاک ہاتھوں سے بچا کر لیجانا تھا، تو دوسری طرف کاروان اہل حرم کی رہبری بھی کرنا تھی، اس کے علاوہ  ایک عظیم ذمہ داری اور بھی تھی وہ تھا پیغام کربلا کو عام کرنا۔  
اسی لئے جب جناب زینب(س)  امام سجاد(ع)  کی تیمار داری میں لگی ہوئی تھیں، فکر امام حسین(ع) کی طرف تھی جیسے ہی کچھ  اشعار امام حسین (ع) سے سنے دوڑ پڑیں۔  امام(ع)  نے دلاسہ دیا، صبر کی تلقین کرتے ہوئے وصیت فرمائی: میری  بہن! تمہیں قسم دیتا ہوں، اور چاہتا ہوں کہ تم اس قسم پر عمل کرو کہ اگر شہید کر دیا  گیا، تو گریبان چاک نہیں کروگی، چہرہ نہیں پیٹو گی اور میرے سوگ میں نہیں بیٹھوگی۔(۵)
بہن بھائی کے درمیان ایک عہد و پیمان ہوگیا: حسین(ع) شہید ہونگے اور زینب صبر کرینگی۔ شہید مطہری کے بقول: عصر عاشور سے زینب کا کردار سامنے آتاہے اس کے بعد کی ذمہ داریاں آپ کے کاندھوں پر تھی، وہ قافلہ سالار تھیں۔(۶)
زینب(س) نے اس عہد پر قائم رہتے ہوئے وہ نمایاں کام انجام دیئے کہ رہتی دنیا یاد کریگی اس طرح کہ اگر زینب نہ ہوتی تو شاید بنی امیہ کے چہرے سے ظلم کی نقاب نہ اٹھتی، جہالت کے پردے لوگوں کی نگاہوں پر پڑے رہ جاتے اور امام حسین (ع) کا قیام باطل کی غلط بیانیوں اور جھوٹی تبلیغ میں گم ہوکر رہ جاتا۔ کیونکہ حکومت بنی امیہ کی تھی، کارندے اسکے تھے، جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آرہاتھا، وہ جو بھی تبلیغ کرتے کامیاب ہوجاتے، لیکن جناب زینب(ع)نے  ایسا کام کیا کہ باطل اپنا منہ نہ چھپا سکے، اور دنیا اسے اچھی طرح پہچان سکے۔

زینب (س)بازار کوفہ میں:

چنانچہ جب لٹاہوا قافلہ کوفہ پہونچا، مجمع عام تھا، کچھ لوگ رو رہے تھے تو بعض کو معلوم بھی نہ تھا کہ یہ کون ہیں؛ اسی وقت جناب زینب(س) پیغام کربلا عام کرنے کے لئے کھڑی ہوئیں: لوگوں کو خاموش کیا یہاں تک کہ اونٹوں کی گھنٹیاں بھی خاموش ہوگئیں؛ حمد وثنائے الہی کے بعد  لوگوں سے مخاطب ہوئیں: اے کوفہ کے لوگو! اے اہل مکر و فریب، اب رورہے ہو؟ تم لوگ ہمیشہ روتے رہو، تمہاری آنکھیں کبھی خشک نہ ہوں، تمہاری مثال اس عورت جیسی ہے جو مظبوط رسی بنانے کے بعد خود ہی کھول دے۔۔۔۔ تم رورہے ہو؟؟؟ ہاں تم رونے کے مستحق ہوخدا کی قسم تم خوب گریہ کرو بہت کم ہنسو۔۔۔ ۔افسوس ہے تم پر، کچھ جانتے بھی ہو تم نے رسول(ص) کے کس جگر کو پارہ پارہ کیا؟ اس کی حرمت کو پامال کیا اور اس کا خون بہایا؟ ان کی مستورات کو بے پردہ کیا ؟ ۔۔۔۔۔  بشیر بن حذیم اسدی کہتا ہے: اس سے پہلے میں نے اس طرح کسی خاتون کو خطاب کرتے ہوئے نہیں دیکھا، ایسا خطاب جیسے علی(ع) بول رہے ہوں۔ (۷)

زینب(س)  دربار ابن زیاد میں:

جب جناب زینب (س) وارد دربار ہوئیں، معمولی لباس میں تھیں لیکن باوقار شخصیت۔ابن زیاد نے تحقیر کرنا چاہی، نام پوچھا، جواب نہ ملا۔ تین بار نام پوچھا تو کسی نے کہا یہ زینب بنت علی ہیں۔ اس نے کہا: خدا کا شکر اس نے تمہیں رسوا کیا اور تمہارا جھوٹ ظاہر کردیا۔ جناب زینب (س)نے فرمایا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَنَا بِمُحَمَّدٍ ص وَ طَهَّرَنَا تَطْهِيراً إِنَّمَا يَفْتَضِحُ الْفَاسِقُ وَ يَكْذِبُ الْفَاجِر۔ خدا کا شکر کہ اس نے ہمیں رسول کے ذریعہ فضیلت بخشی اور پاک و پاکیزہ بنایا نہ کہ جیسا تو کہہ رہا ہے، رسوا تو فاسق ہوتا ہے اور بدکار جھوٹ بولتا ہے۔
ابن زیاد نے کہا: خدا نے جو تمہارے خاندان کے ساتھ کیا کیسا پایا؟ جواب ملا: ’’مَا رَأَيْتُ إِلَّا جَمِيلا ‘‘  خدا سے نیکی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا، شہادت ان کے لئے مقرر تھی اور وہ اس راہ میں چل پڑے، عنقریب خدا تمہارے درمیان فیصلہ کریگا،  اس دن دیکھنا کون کامیاب ہے، تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے اے پسر مرجانہ۔ اس کو غصہ آگیا عمروبن حریث نے قابو کیا تو بولا: خدا نے تیرے مغرور و متکبر بھائی کے قتل کے ذریعہ میرے دل کو سکون بخشا، جناب زینب (س)نے اسے دنداں شکن جواب دیتے ہوئے کہا: خدا کی قسم تونے ہمارے سید و سردار کوقتل کیا، شاخوں کو کاٹ ڈالا اور جڑکو اکھاڑ ڈالا، اگر اس سے تجھے شفا ملتی ہے تو اسی میں خوش رہ۔(۸)   ابن مرجانہ نے جب  تشنگی، اسیری اور دوسری رنج و مصیبت کے باوجود حق بیانی کا یہ انداز دیکھا تو اس  کی ساری خوشیوں پر پانی پھر گیا۔
 
جناب زینب  (س)دربار یزید میں:
جب دربار یزید میں وارد ہوئیں، دربار سجا ہوا تھا، لوگوں کو فتح کے خوشی کی دعوت دی گئی تھی ، یزید سربریدہ سے نازیبا سلوک کررہا تھا اور عبداللہ بن زبعری کے اشعار پڑھتا جاتا تھا: اے کاش جنگ بدر کے لوگ آج  زندہ ہوتے ۔۔۔  پیغام حسینی کے عام کرنے کا بہترین وقت آگیا تھا، شیر دل خاتون نے یزید کو ایسا جواب دیا کہ اسلام آج تک اس کی رہین منت ہے:  الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِين‏ ۔۔۔۔۔ اے  یزید! کیا تو سمجھتا ہے تو نے ہم پرعرصہ حیات تنگ کردیا، لہذا ہم تمہارے اسیربن گئے ہیں اور ہمیں ایک قطار میں لایا جارہاہے اور تم صاحب اقتدار ہوگئے ہو، (تمہارے خیال میں) یہ ہمارے لئے خدا کی طرف سے ننگ و عار ہے اور تیرے لئےفضیلت؟ ۔۔۔۔۔۔ ذراٹھہر، جلدبازی نہ کر، کیا تو فرمان خدا کو بھول گیا: وَ لا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً(9)  
اور خبردار یہ کفاّر یہ نہ سمجھیں کہ ہم جس قدر راحت و آرام دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں کوئی بھلائی ہے- ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ جتنا گناہ کرسکیں کرلیں ورنہ ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔
اے آزاد شدہ غلام کی اولاد! یہ کہاں کا عدل ہے کہ کنیزوں کو پردہ میں رکھا جائے اور اہل بیت رسول(ص) کو بے پردہ پھرایا جائے؟  تم نے رسول زادیوں کو بے ردا اور ان کے چہروں کو بے پردہ کیا، دشمنوں کے ہاتھوں  پھرایا؟ جب کہ قرب و جوار کے شریف و پست لوگ ان کا تماشا دیکھنے  آئے۔۔۔۔۔ تیری بدکاریوں پر تعجب ہے اور نہ حیرت،  اس سے کیا امید لگائی جاسکتی ہے جس (کی دادی) نے شہیدوں کا جگر چباکر تھوکا ہو، جس(کے دادا) نے سید الانبیاء) ص) سے جنگ کی ہو۔۔۔۔۔  اے  یزید!  آل رسول پر ظلم کرنے کے باجود ایسے اشعار پڑھ رہا ہے  اور جنگ بدر والوں کو پکار رہا ہے کہ اگر وہ ہوتے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے۔۔۔۔۔ تم نے جوانان جنت کے سردار، فرزند یعسوب الدین اور آل عبد المطلب کے چشم و چراغ کا خون بہاکر مندمل زخم کو ہرا کرڈالا ۔۔۔۔اے یزید: تم نے اپنی ہی کھال ادھیڑی اور اپنا ہی گوشت ٹکڑے ٹکڑے کیا ہے، عنقریب تم رسول خدا (ص)کے پاس جاؤگے جبکہ تم نے ان کی اولاد کا خون اپنی گردن پر لیا، ان کی حرمت کو پامال کیا اور ان کی عترت کا خون بہایا۔۔۔۔۔اے یزید پھر بھی جو مکر و فریب کرسکتے ہو کرلو، اور پوری کوشش کرکے دیکھ لو، لیکن خدا کی قسم !تم ہماری انتہا کو درک نہیں کرسکتے اور نہ ہماری بلندی کو چھو سکتے ہو اور نہ ہی ہمارا ذکر مٹاسکتے ہو (پورے خطبہ کےلئے: مثير الأحزان ،ص101؛  اللهوف على قتلى الطفوف، ص 181)
اس طرح جناب زینب (س)نے اپنے مدبرانہ کردار و گفتار سے باطل کے تمام حربوں کو ناکام کردیا ، کوفہ میں ایسا خطاب کہ لوگ نہ صرف اہل بیت (ع)کے غم کی طرف متوجہ ہوئے بلکہ امام علی (ع) کی یاد تازہ ہوگئی اور اگر کہا جائے کہ قیام توابین کی اصل داغ بیل اسی خطبہ نے ڈالی تو بیجا نہ ہوگا۔ ابن زیاد اپنے مکر فریب سے قیام کربلا اور شہادت امام حسین(ع) کی نسبت خدا کی طرف دے کر عقیدہ جبر کی ترویج کرنا چاہا لیکن جناب زینب نے بیباکانہ انداز میں ایک آفاقی جملہ’’و ما رایت الا جمیلا‘‘ کے ذریعہ عقیدہ جبر پر خط بطلان کھینچتے ہوئے اسے اپنے منحوس عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا نیز ’’ابن مرجانہ‘‘ کے ذریعہ خطاب بھی اس کی فضیحت کے لئے کم نہ تھا۔   
جب شام میں پہونچیں تووہاں سرور و شادمانی کا عالم تھا اس لئے کہ انہیں جو سکھایا اور بتایا گیا تھا اس کے لحاظ سے حاکم اسلام کے خلاف خروج کرنے والا مارا گیا تھا لیکن جب جناب زینب(ع) نے دربار  میں خطاب کیا تو اس میں ’’بنات رسول‘‘ ذریہ رسول خدا‘‘ جیسے الفاظ  استعمال کرکے واضح کیا کہ بنی امیہ نے کس کو ماراہے۔ لفظ ’’ یابن الطلقاء‘‘ کے ذریعہ یزید کی حیثیت بھی بتائی جس سے پوری تاریخ بنی امیہ سامنے آگئی۔ اور خطبہ میں قرآنی آیات  کا سہارا لےکر ایک طرف اپنی حقانیت کا کلمہ پڑھوایا تو دوسری طرف واضح کردیا یہ جس کو تم اپنے لئے فخر سمجھ رہے حقیقت میں خدا کی جانب سے ’’مہلت ‘‘ ہے تاکہ مزید گناہوں کے دلدل میں دھنستے چلے جاؤ، جس طریقہ سے امام حسین (ع) نے نعرہ دیا تھا ’’هيهات منا الذلۃ‘‘ جناب زینب(ع) نے اس کو پورا کردکھایا’’ کد کیدک ۔۔۔۔جو دل چاہے کرلے ہمارے ذکر کو نہیں مٹا سکتا، اور ثابت کردیا کہ رہبری اور امامت کا حق صرف اور صرف  خاندان نبوت کا حق ہے۔
* اس لئے کہ جب مکہ فتح ہوا تھا تو رسول اسلام (ص)نے مشرکین سے فرمایا تھا ’’انتم الطلقاء‘‘  آج  یزید انہیں کی نسل کا ہوکر اہل بیت(ع) کی بے حرمتی کررہا تھا۔

منابع:
۱) جعفر نقدی، حیاۃ زینب الکبریٰ، ص22)
۲) ( ریاحین الشریعه ج 3 ص 41)
۳) )(رسولی محلاتی، زینب عقیلہ بنی ہاشم، ص 40؛ زینب الکبری، ط نجف، ص129)
۴) ( ریاحین الشریعہ، ج3، ص41)
۵) (الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، كنگره شيخ مفيد، ج2،ص94)
۶) ( حماسہ حسینی، ج1، ص232)
۷) (پورے خطبہ کےلئے: الأمالي (للمفيد)،ص 321؛  الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج‏2، ص 303؛ مثير الأحزان،  86؛  اللهوف على قتلى الطفوف ، ص 146)
۸)  مثير الأحزان،  86؛  اللهوف على قتلى الطفوف ، ص 146)
۹) (آل عمران، 176)

زیارت کے فوائد

❓کیا امام #حسین علیہ السلام اور دیگر #ائمہ طاہرین ہمارے حالات سے باخبر نہیں اور ہماری آواز نہیں سنتے جو ہم ان کی قبر پر جائیں وہاں جاکر باتیں کریں؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟؟؟‼️

✍🏼اس میں شک نہیں کہ ائمہ طاہرین ہمارے حالات سے باخبر ہیں، لیکن کثیر تعداد میں زیارت کی فضیلت میں روایتیں موجود ہیں:

📚وسائل الشیعه،ج14 ص320 باب2

📚بحار الانوار ج97 ص116 باب 2

🔷امام #رضا علیه السلام نے فرمایا:

📗سمِعْتُ الرِّضَا ع يَقُولُ‏ إِنَّ لِكُلِّ إِمَامٍ عَهْداً فِي عُنُقِ أَوْلِيَائِهِ وَ شِيعَتِهِ وَ إِنَّ مِنْ تَمَامِ الْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ وَ حُسْنِ الْأَدَاءِ زِيَارَةَ قُبُورِهِمْ فَمَنْ زَارَهُمْ رَغْبَةً فِي زِيَارَتِهِمْ وَ تَصْدِيقاً بِمَا رَغِبُوا فِيهِ كَانَ أَئِمَّتُهُمْ شُفَعَاءَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

📖حسن بن علی وشاء کہتے ہیں: میں نے امام رضا علیہ السلام کویہ فرماتے ہوئے سنا: ہر امام کے لئے ان کے شیعوں اور چاہنے والوں کی گردن پر ایک عہد و پیمان ہے اور وعدہ وفائی کے کمال میں سے یہ ہے کہ ان کی قبروں کی زیارت کریں پس جو پورے شوق اور تصدیق کے ساتھ ان کی زیارت کرے ان کے امام قیامت کے ان کے شفیع ہونگے۔

📚الكافي( ط- الإسلامية)، ج4، ص567۔ 

🔷اسحاق بن عمار امام #صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

📒مرُّوا بِالْمَدِينَةِ فَسَلِّمُوا عَلَى‏ رَسُولِ‏ اللَّهِ‏ ص‏ مِنْ قَرِيبٍ وَ إِنْ كَانَتِ الصَّلَاةُ تَبْلُغُهُ مِنْ بَعِيدٍ.

📃مدینہ جاو اور قریب سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ پر سلام کرو اگرچہ دور سے بھی درود ان تک پہونچتا ہے۔

📚الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏4، ص552، باب دخول المدينة و زيارة النبي ص و الدعاء عند قبره؛ وسائل الشيعة، ج‏14، ص338، 4 - باب استحباب زيارة النبي ص و لو من بعيد و التسليم عليه و الصلاة عليه۔

👌اس طرح کی اور بھی روایتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قبور اہل بیت علیہم السلام پر حاضر ہونا فضیلت رکھتا ہے اور اس کے کئی فائدے ہیں منجملہ:

 1️⃣زیارت، ان بزرگ ہستیوں کی تعظیم و تکریم کا سبب اور ان سے محبت کی ایک علامت ہے۔

❗️دنیا کی مختلف قومیں اپنے بزرگوں کے آثار کو زندہ رکھنے اور ان کی حفاظت کی کوشش کرتی ہیں یہ بھی اکابرین مذہب کے احترام اور تعظیم میں سے ہے۔

 2️⃣ روایات کے مطابق مراقد مشرفہ اور حرم ائمہ طاہرین علیہم السلام  فرشتوں، ارواح انبیاء و اولیاء کی جائے نزول ہے اور زیارت، اس سے مستفیض ہونے کا سبب ہوگی اور ان مقامات پر دعا مستجاب ہوگی۔ 

📚ثواب الاعمال ص96

3️⃣ ان کی زیارت کرنا حقیقت میں اس راہ میں پڑنے والے شہروں قریوں میں وحدانیت خدا اور ولایت اہل بیت علیہم السلام کی ترویج ہے۔

4️⃣یہ زائرین کی اپنے ائمہ سے محبت اور دوستی کی صداقت کی علامت ہے کہ رنج سفر برداشت کرتے ہیں اور زیارت کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تاکہ ان کے حکم کی اطاعت کریں

5️⃣زیارت پر جانا سبب بنتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں مختلف قوموں اور علاقوں کے حالات سے واقف ہوں اور مشکلات کو سمجھیں۔

6️⃣زیارت، امام رضا علیہ السلام کی روایت کے مطابق ایک عہد و پیمان ہے جو اماموں کے ساتھ انجام پایا۔ 

7️⃣ ائمہ طاہرین کے روضے ہمیشہ تبلیغ و ترویج دین، علم ... کا مرکز رہے ہیں. یہ سب ان کی زیارتوں کی برکت اور انہیں آباد رکهنے کے طفیل میں ہے 

📚 مزید تفصیلات کے لئے: ادب فنای مقربان،جوادی آملی ج1 ص18 

نہی عن المنکر

🔘کلام امام حسین علیہ السلام سے🔘

📕لایَنبَغی لِنفسٍ مُؤمِنَةٍ تَری مَن یَعصِی اللهَ فَلا تُنکِرَ؛

🗒مومن کی شان یہ نہیں ہے کہ کسی کو گناہ کرتے دیکھے اور اس پر اعتراض نہ کرے

📚کنزالعمّال، ج 3، ص 85

✍🏼اگر امام حسین علیہ السلام کے ارشادات کو ملاحظہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے ایک زندہ قوم میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی کتنی اہمیت ہے۔

امربالمعروف اور نہی المنکر حقیقت میں معاشرہ اور سماج کے زندہ ہونے کی علامت ہے، معاشرہ کی ترقی بھی اسی میں مضمر دکھائی پڑتی ہے۔

جو شخص اسلام، قرآن، خدا، اور رسول پر اعتقاد رکھتا ہوگا، اس سے بعید ہے کہ معاشرہ میں اخلاقی، اعتقادی، سماجی برائیوں کی جڑوں کو مضبوط ہوتا دیکھتا رہے اور اس سے کوئی مطلب نہ رکھے، گویا کوئی بات ہی نہ ہو۔

جس سماج میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر نہ ہو وہ سماج گویا مردہ اور بے حس ہے۔

نہی عن المنکر یعنی جو کشتی میں سوراخ کرناچاہتا ہو جو سب کو لے ڈوبے، یا صاف پانی کو زہرآلود کرنا چاہتا ہو جس سے پورا شہر ہی بیمار پڑجائے اسے اس کام سے روک دینا۔

فسق کرنے والوں اور گناہ کے شکار لوگوں کو گناہ اور معصیت سے روکنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے درختوں پر زہر کا چھڑکاو کردیا جائے تاکہ اس کے پھل مختلف آفتوں سے محفوظ رہیں۔

 گندی نالیوں کو صاف کردینا چاہئے جہاں سے گناہ جیسے ملیریا سے بہت سے لوگوں کے مریض ہوجانے کا خطرہ ہو، ایسے کوڑے کو دفن کردینا چاہئے جس سے ہوس کے کیڑوں کے پھیلنے کا خطرہ ہو۔ تبھی ایمان و تقوی کے پھول کھلتے نظر آئیں گے۔

▫️ایمان اور اسلام نے نہی عن المنکر جیسی عظیم ذمہ داری مسلمانوں کے حوالے کی ہے تاکہ نہ جرم کریں نہ ہی جہاں تک ممکن ہو جرم ہونے دیں▫️