علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

جمعہ، 27 فروری، 2026

#وفات_حضرت_خدیجہ_علیہا_السلام



۱۰/ رمضان المبارک


#وفات_حضرت_خدیجہ_علیہا_السلام


اس دن جناب خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا نے بعثت کے دس سال بعد دنیا سے رحلت فرمائی۔ [مسار الشیعہ، ص۶۔۷؛ الوقایع و الحوادث، ج۱، ص۱۲۷؛ فیض العلام، ص۲۷؛ نفائع العلام، ص۱۵، ۱۹۱]


یہ اس قول کے مطابق ہے کہ جناب خدیجہ (س) کی رحلت جناب ابوطالب (ع) کے 45 دن بعد ہوئی تھی۔


آپ کی وفات کے سلسلہ میں دوسرے اقوال اس طرح سے ہیں: ۲۳/رجب، ۲۷/رجب، ۲۹/رجب، [بحار الانوار، ج۱۹، ص۲۵؛ جنات الخلود، ص۱۸] اوّل رمضان المبارک، [توضیح المقاصد، ص۲۲] ۱۲/رمضان المبارک۔


آپ نے حضرت ابوطالب علیہ السلام کی وفات کے 3 دن بعد، یا ایک مہینہ، یا ۳۵دن، یا 45 دن، یا 50 روز یا ایک سال بعد وفات پائی۔ [کافی، ج۱، ص۴۳۹؛ نفائع العلام، ص۱۹۱؛ منتخب التواریخ، ص۴۳]


▪️آپ حضرت رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ کی پہلی زوجہ تھیں، اور جب تک جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا با حیات رہیں نبی گرامی صلّی اللہ علیہ و آلہ نے کسی اور سے عقد نہ فرمایا۔


آپ نے اسلام لانے میں سبقت اختیار کی، اور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ کے لئے آپ کی خدمات اس سے کہیں زیادہ ہیں جو بیان کی جا سکیں۔ آپ کی فضیلت میں یہی کافی ہوگا کہ آپ حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی والدہ مکرّمہ ہیں، اور حضور صلّی اللہ علیہ و آلہ کی ساری ذرّیت  آپ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ [فیض العلام، ص۲۷]


▫️ جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے رحلت کے وقت نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ سے چند وصیتیں فرمائیں، اور تمام تر ایثار و فداکاری اور انفاقِ مال کے باوجود عرض کرتی ہیں:


یا رسول اللہ، مجھے معاف کیجیے گا کہ میں نے آپ کے حق میں کوتاہی کی»۔


نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:


ہرگز ہرگز! میں نے تو آپ سے خیر و خوبی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا؛ بلکہ آپ نے میری خاطر بے انتہا سعی و کوشش سے کام لیا۔ آپ نے ہمارے گھر میں کافی زحمتیں برداشت کیں، آپ نے اپنی ساری دولت خدا کی راہ میں خرچ کر ڈالی»۔


اس وقت جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے عرض کیا:


یا رسول اللہ، میں آپ کو وصیت کرتی ہوں کہ اس بیٹی کو- اور جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی جانب اشارہ کیا-  جو میرے بعد یتیم ہوجائے گی، قریش کی کوئی عورت اسے اذیت نہ دینے پائے، کوئی اس کے رخسار پر طمانچے نہ مارنے پائے، اس پر کوئی چلاّئے نہیں، وہ کوئی غم نہ دیکھے۔[شجره طوبی، ج۲، ص۲۳۵۔۲۳۴]


▪️ آپ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کی تصدیق کی، اور وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے مکّہ میں رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ کے ساتھ نماز جماعت پڑھی، اور وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے مکّہ میں مشرکین کے سامنے اپنے اسلام کا اظہار فرمایا، اور وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے دشمنوں کے مقابل رسول خدا صلی علی علیہ و آلہ کا دفاع کیا اور اپنی ساری دولت پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ کو بخش دی، اور آپ ہی وہ پہلی خاتون ہیں جن کا ایمان حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کے اقرار کے ذریعہ درجہ کمال تک پہونچا۔


نبی اکرم ص فرماتے ہیں: میرا دین دو چیزوں سے مستحکم ہوا ہے: ۱۔ خدیجہ کی دولت اور علی بن ابی طالب کی شمشیر۔ [شجرہ طوبیٰ، ج۲، ص۲۳۳] اور فرمایا: مجھے خدیجہ کی دولت سے بڑھ کر کسی دولت نے منفعت نہیں پہونچائی ہے۔ [امالی طوسی، ص۴۶۸؛ الصحیح من السیرہ، ج۴، ص۱۳]


▫️ ایک دن نبی اکرم صلّی اللہ علیہ و آلہ نے جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا کو بلایا اور اپنے پاس بٹھایا او فرمایا:


یہ جبرئیل ہیں اور کہہ رہے ہیں: 


اسلام کی کچھ شرطیں ہیں: خداوند متعال کی وحدانیت کا اقرار، رسولوں کی رسالت، آخرت اور اس شریعت کے اصول اور احکام کا اقرار، اولی الامر اور ان کے فرزندوں میں سے یکے بعد دیگرے آنے والے ائمہ طاہرین کی اطاعت اور انکے دشمنوں سے برائت۔


جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے سب کا اقرار کیا اور ائمہ طاہرین خاص طور پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی تصدیق کی۔


پیغمبر صلّی الله علیہ و آلہ نے فرمایا:


هُوَ مَولاکِ وَ مَولَی المُؤمِنینَ وَ إمامُهُم بَعدی۔ علی آپ کے مولا مومنین کے مولا اور میرے بعد ان کے امام ہیں۔


پھر جناب خدیجہ سے ولایت امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کے سلسلہ میں دوبارہ عہد لیا۔ اسکے بعد رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ نے اصول و فروع دین یہاں تک کہ آداب وضو، نماز، روزہ، حج، جہاد، صلۂ رحم، واجبات اور محرّمات کو بیان فرمایا۔


اس کے بعد پیغمبر صلّی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے ہاتھ کو امیر المومنین علیہ السلام کے ہاتھ پر رکھا اور جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اپنا ہاتھ رسول خدا صلُی اللہ علیہ و آلہ کے ہاتھ پر رکھا، اور اس طریقہ سے امیر المومنین علیہ السلام کی بیعت ہوئی۔ [الطرائف، ص۴؛ بحار الانوار، ج۱۸، ص۲۳۲؛ ج۶۵، ص۳۹۲؛ الانوار الساطعہ، ص۳۳۷]


📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۰/رمضان، ص۲۷۱



https://t.me/klmnoor


https://www.facebook.com/klmnoor