علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

پیر، 2 اپریل، 2018

حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا



نام: زینب

كنیت: ام الحسن و ام كلثوم

القاب: صدّیقة الصغرى، عصمة الصغرى، ولیة اللّه العظمى، ناموس الكبرى، شریكة الحسین، عالمه غیر معلّمه، فاضله، كامله. عديلة الخامس من أهل الكساء،  عقيلة بني هاشم‏...

والد ماجد: حضرت امیرالمومنین على بن ابیطالب (علیہ السلام)

مادرگرامی : حضرت فاطمہ زہرا (علیہاالسلام)

تاریخ ولادت: ۵/جمادى الاولى پنجم یا ششم ہجرى

جائے ولادت: مدینۂ منوّره

تاریخ وفات: 15 رجب 63 ہجرى

جائے وفات: شام


◾️اسم با فضیلت

 

👈جس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سفر سے واپس تشریف لائے اور حضرت علی علیہ السلام نے مولود کا نام تجویز کرنے کی بات پیش کی، آپ (ص) نے فرمایا: میں اپنے رب پر سبقت نہیں کرسکتا۔

تبھی جبرئیل نازل ہوئے اور سلام پہونچاتے ہوتے کہا کہ اس مولود کا نام زینب رکھئے کہ خدا نے اس نام کا انتخاب کیا ہے۔
اس کے بعد جناب زینب سلام اللہ علیہا پر پڑنے والے مصائب پڑھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گریہ کیا اور فرمایا:

📔منْ بَكَى عَلَى مَصَائِبِ هَذِهِ الْبِنْتِ كَانَ كَمَنْ بَكَى عَلَى أَخَوَيْهَا الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ۔

جو اس بیٹی کے مصائب پر گریہ کریگا گویا اس نے اس کے بھائی حسن و حسین (علیہما السلام) پر آنسو بہائے ہیں۔

📚عوالم العلوم، ج‏11، ص947، (2) اسمها عليها السلام

◾️آپ کی عبادت:

👈جناب زینب سلام اللہ علیہا کو ان کی کثرت عبادت کے ذریعہ پہچانا جاتا تھا، یعنی آپ س عبادت و تہجد میں اپنے بابا، نانا اور اپنی مادر گرامی کی طرح تھیں
جیسا کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

📗ما رَأَيْتُ عَمَّتِي تُصَلِّي اللَّيْلَ عَنْ جُلُوسٍ إِلَّا لَيْلَةَ الْحَادِي عَشَرَ

میں نے اپنی پھوپھی کو کبھی کبھی رات کو بیٹھ کر نمازشب  پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے شام غریباں میں۔

📚عوالم العلوم، ج‏11، ص953، / (6) عبادتها عليها السلام

یعنی جناب زینب سلام اللہ علیہا نے اس قیامت خیز رات، جب سارے چاہنے والے بھوکے پیاسے تہ تیغ کردئیے گئے، مال و اسباب لوٹ لیا گیا، ظلم کے پہاڑ ٹوٹے؛ پھر بھی خدا سے ملاقات اور تہجد و نوافل کی راہ میں کوئی چیز حائل نہ ہوسکی۔

آپ (س) کی عبادت کے سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کا جملہ ہی کافی ہے کہ فرماتے ہیں:

📗يا أُخْتَاهْ لاَ تُنْسِينِي فِي نَافِلَةٍ اللَّيْلِ

اے میری بہن! مجھے نافلۂ شب میں فراموش نہ کرنا۔

📚عوالم العلوم، ج‏11، ص954، / (6) عبادتها عليها السلام

◾️مقام علم و حکمت:

👈علم کے میدان میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کو اگر دیکھا جائے تو آپ کی پرورش معصوم نانا، بابا، ماں اور بھائیوں کی آغوش میں ہوئی، اور سفرہ علوم الہی پر تشریف فرما تھیں، حصار عصمت میں ادب سیکھا۔ آپ س کے سلسلہ میں زبان معصوم سے نکلا ہوا عظیم جملہ آپ کی علمی جلالت اور شرف و منزلت کی تفسیر کامل کررہا ہے، جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:

📗أنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ فَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَة

الحمد اللہ آپ تو عالمہ غیر معلمہ ہیں، اور بغیر کسی استاد کے بہترین سمجھنے والی ہیں۔

📚الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج‏2، ص305۔

جیسا کہ تاریخ میں ذکر ہوا ہے، جناب زینب س مسندِ تفسیر قرآن پر بیٹھا کرتیں اور خواتین کو درس دیا کرتی تھیں،

📗أنْ العَقِيلَةَ زَيْنَبَ سَلَامُ اللَّهِ عَلَيْهَا كَانَ لَهَا مَجْلِس خَاصّ لِتَفْسِيرِ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ تَحْضُرُهُ النِّسَاءُ

📚عوالم العلوم و المعارف والأحوال، ج‏11، ص954، (6) عبادتها عليها السلام

◾️اسوۂ حیا و عفت

👈یحیی مازنی کہتے ہیں:
میں کافی دنوں تک مدینہ میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کے گھر کے پاس رہا، نہ کبھی دیکھا اور نہ آواز سنی۔
جب جناب زینب گھر سے اپنے نانا کے مرقد مطہر پر زیارت کے لئے رات میں تشریف لے جاتیں، حسن(ع) و حسین(ع) داہنے بائیں ہوتے اور امیر المومنین(ع) سامنے؛  اور جب جد بزرگوار کی قبر کے قریب پہونچتیں تو حضرت امیرالمومنین (ع) چراغ کو گل کردیتے۔ امام حسن علیہ السلام کے علت دریافت کرنے پر فرمایا:

📗أخْشَى أَنْ يَنْظُرَ أَحَدٌ إِلَى شَخْص أُخْتِكَ زَيْنَب

اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی تمہاری خواہر پر نظر ڈال سکے۔

📚عوالم العلوم و المعارف والأحوال، ج‏11، ص955، (7) عفتها، و حياؤها عليها السلام

👈جب جناب زینب علیہا السلام کی بے مثال سیرت اور حیا و عفت پر ذرّہ برابر بھی اپنے زعم ناقص میں ظالموں نے حرف لگانے کی کوشش کی تو خطاب کیا:

📗 أ مِنَ الْعَدْلِ يَا ابْنَ الطُّلَقَاءِ تَخْدِيرُكَ حَرَائِرَكَ وَ إِمَاءَكَ وَ سَوْقُكَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ سَبَايَا قَدْ هَتَكْتَ سُتُورَهُنَّ وَ أَبْدَيْتَ وُجُوهَهُنَّ تَحْدُو بِهِنَّ الْأَعْدَاءُ مِنْ بَلَدٍ إِلَى بَلَد


اے آزاد شدہ غلام کی اولاد! یہ کہاں کا عدل ہے کہ کنیزوں کو پردہ میں رکھا جائے اور اہل بیت رسول(ص) کو بے پردہ پھرایا جائے؟ تم نے رسول زادیوں کو بے ردا اور ان کے چہروں کو بے پردہ کیا، دشمنوں کے ہاتھوں  دیار بدیار پھرایا؟

📚الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج‏2، ص308، احتجاج زينب بنت علي ع

◾️بے نظیر صبر و استقامت :

👈جناب زینب سلام اللہ علیہا کا صبر اور ان کی استقامت ہی ہے جس کے ثبات کے آگے وقت کا ظالم و جابر بادشاہ لرزہ بر اندام ہوگیا اور وقت کی عظیم حکومت کے مستحکم ستون زمیں بوس ہوتے ہوئے دکھائی دیے۔ اور کربلا شام و کوفہ میں شریکۃ الحسین (علیہما السلام)  یکے بعد دیگرے صبر و استقامت کی مثال پیش کرتے ہوئے عالم اسلام میں اسوۂ صبر بن گئیں۔

ابن زیاد کی لن ترانیوں کے سامنے آپ کا جواب تاریخ کے سنہرے اوراق کی زینت بن گیا:

📗فقَالَتْ مَا رَأَيْتُ‏ إِلَّا جَمِيلا.
میں نے خدا سے خوبیوں کے سوا کچھ نہیں دیکھا

📚مثير الأحزان، ص90، زينب في أعظم الجهاد بكلمة غراء أمام السلطان الجائر

یزید کے سامنے آپ کے فصیح و بلیغ خطبے کا ایک حصہ یہ تھا:

📗 كدْ كَيْدَكَ وَ اجْهَدْ جُهْدَكَ فَوَ اللَّهِ الَّذِي شَرَّفَنَا بِالْوَحْيِ وَ الْكِتَابِ وَ النُّبُوَّةِ وَ الِانْتِخَابِ لَا تُدْرِكُ أَمَدَنَا وَ لَا تَبْلُغُ غَايَتَنَا وَ لَا تَمْحُو ذِكْرَنَا...
اے یزید پھر بھی جو مکر و فریب کرسکتے ہو کرلو، اور پوری کوشش کرکے دیکھ لو، لیکن خدا کی قسم !تم ہماری انتہا کو درک نہیں کرسکتے اور نہ ہماری بلندی کو چھو سکتے ہو اور نہ ہی ہمارا ذکر مٹاسکتے ہو۔

📚الإحتجاج على أهل اللجاج (للطبرسي)، ج‏2، ص309، احتجاج زينب بنت علي بن أبي طالب حين رأت يزيد لعنه الله يضرب ثنايا الحسين ع بالمخصرة

◾️مدافع عظیم ولایت:

👈حضرت زینب سلام اللہ کی شخصیت میں معرفت امام زماں، اور اس کی حفاظت میں اپنی جان کی پروا نہ کرنا بہت ہی عظمت کا حامل ہے، اور تمام مداحان و پیروان سیرت حضرت زینب سلام علیہا کے لئے بہترین نمونہ؛ چنانچہ حضرت زینب س نے وقت کے امام کو عصر عاشور شمر کے حملے میں بچایا اور جب ابن زیاد کے دربار میں دوبارہ امام وقت اور ولی خدا پر آنچ آتی ہوئی دکھائی پڑی تو سینہ سپر ہوگئیں:

📗اذْهَبُوا بِهِ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ فَسَمِعَتْ بِهِ عَمَّتُهُ زَيْنَبُ فَقَالَتْ يَا ابْنَ زِيَادٍ إِنَّكَ لَمْ تُبْقِ مِنَّا أَحَداً فَإِنْ كُنْتَ عَزَمْتَ عَلَى قَتْلِهِ فَاقْتُلْنِي مَعَه‏ا

ابن زیاد  نے کہا جاؤ اس کی گردن اڑا دو؛ آپ (ع) کی پھوپھی زینب (س) نے سنا، تو کہا: اے ابن زیاد تو نے تو میرے خاندان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا؛ اب اگر اسے بھی قتل کرنا چاہتا ہے تو مجھے بھی اس کے ساتھ قتل کر۔

📚اللهوف على قتلى الطفوف، ترجمه فهرى، ص162، المسلك الثالث في الأمور المتأخرة عن قتله صلوات الله عليه

▪️ صلَّي اللَّهُ عَلَيکِ يَا بِنْتَ اَمِيرِالمُؤمِنِينَ ▪️

🏴🏴🏴🏴🏴



ہفتہ، 31 مارچ، 2018

حیات ڈھونڈ رہی ہے علی کا دروازہ



🌹🌹  آج 13 رجب ہے اور علی بن ابی طالب ع کے در دولت پر لگتا ہے پوری انسانیت کهڑی ہوئی عرق ندامت میں غرق کچھ مانگ رہی ہے!!

حکمت و دانائی، مساوات و عدالت، کرم و بخشش ، انسانوں سے ہمدردی، مروت و وفاداری ، جہد مسلسل، انداز حکمرانی ، اسلوب سیاست ، شرف و بزرگی ، طریقہ بندگی ، حیات و زندگی اور نہ جانے کیا کیا؟

اسے علی کو کھونے پر رنج و ملال ہے، دربدری کا احساس ستائے جا رہا ہے جس در پر دستک دی بهید بهاو، نا انصافی ، ظلم و زیادتی ، جہالت و نادانی ، تنگ دلی و تنگ نظری ، تفرقہ افکنی ، نفرت و عداوت اور دل آزاری کے سوا کچھ نہ ملا اس لئے تہک ہار کر پہر وہ در علی کی طرف دیکھ رہی ہے.

⚠️کہتے ہیں : تاریخ اپنے کو دہراتی ہے ، آج سے چودہ سو سال پہلے بهی بھٹکے ہوئے اہل مدینہ سب کو آزمانے کے بعد اسی طرح خانہ علی علیہ السلام پر جمع ہوئے تھے اور ان سے حکومت و خلافت کی باگ ڈور سنبھالنے کی درخواست کر رہے تھے کثرت الناس کے سبب علی علیہ السلام کے دوش سے ردا زمین پر گر گئی تهی ، پیر کے انگوٹھے زخمی ہو گئے تھے ، حسن و حسین علیہم السلام بهیڑ میں کچل گئے تھے ، اور علی بن ابی طالب علیہ السلام حکومت کی پیشکش کرنے والوں سے بار بار یہی کہتے تھے " مجھے میرے حال پر چھوڑ دو جاو کسی اور کو حکومت دو " میں ہمیشہ کی طرح تمام انسانوں اور اسلام و مسلمین کی اسی طرح خدمت کرتا رہوں گا جس طرح ابهی تک خدمت کرتا آیا ہوں ، آپ پاک و صاف نیت کے ساتھ وہی کچھ کرنے کا عزم رکھتے تھے جسے آپکے برادر عم نبی اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرتے رہے اور آپکو جسکی وصیت فرما کر گئے تھے۔

💢مگر اب زمانے نے پھر سے کروٹ لی ہے ورق تاریخ الٹنے کو ہے انسان جھوٹ و فریب ، مکر و ریا کی مصنوعی دنیا سے عاجز و خستہ حال اپنے سچے مسیحا کی تلاش میں ہے شاید اسکے گمان میں علی (علیہ السلام) خاک نجف سے اٹھ کر آئیں گے دار السلطنت کوفہ میں پہر دکۃ القضا (عدالت اسلامی ) قائم کرکے اسے عدل و انصاف دیں گے۔

💢 مگر شاید یہ گمان درست نہ ہو ، علی علیہ السلام کا جسم مبارک اب لوگوں کے درمیان کہاں؟ جو انسانوں کو زندگی کی بھیک دے سکے مگر ہاں ، ان کی کتاب ضرور ہے ، نہج البلاغہ آج بهی انسانوں کے لئے موجود ہے جس کا ہر ورق نور کا ایک ٹکڑا ہے، خطبہ اول آفاق و انفس میں سیر کرنے والوں کے لئے، خطبہ همام، خاصان خدا اور متقین کے لئے، عہد نامہ مالک اشتر حکمرانوں اور سیاست دانوں کے لئے، امیر المومنین اور امیر شام کے درمیان رد و بدل ہونے والے خطوط تاریخ آدم سے عبرت لینے والوں کے لئے اور یہ پوری کتاب ہر علم دوست فصاحت و بلا غت کے شیدائیوں کے لئے، رہنما کلام، شاہراہ حیات، جادہ عدل و مساوات، صحیفہ ہدایت، معارف الہی کا سمندر، نصاب درس زندگی، شرک و کفر سے مبرا توحید پرستوں کے لئے خالص توحیدی آبشار، سر چشمہ علم و معرفت، دفتر تقوی و طہارت، کامیاب زندگی کا ایک مکمل نمونہ. اور خاتمہ حیات کے لئے سعادت بهری منزل کی علامت ہے .

🔺تو آئیے ہم سب مل کر خاک نجف سے تیمم کریں اور فکر و نظر کی طہارت حاصل کرنے کے بعد نہج البلاغہ کو اپنے ہاتھوں میں لیکر پھر سے زندگی کے آغاز کا عزم کریں.
 
🔺اے علی! اے ملکوتی قلب و ذہن کے مالک ، آپکے فصیح و بلیغ زبان و بیان پر قربان جائیں ،آپکی عظمتوں کے  قدم چومیں، ہماری مدد کیجئے کہ آپکی حق گوئی اور صداقت بهری ہدایات کا بکهری ہوئی زندگی میں ایک بار پھر تجربہ کرنے کا ارادہ ہے۔

✍🏼عالیجناب مولانا سید مشاہد عالم رضوی صاحب قبلہ

تنزانیہ


🌷🌷🌷🌷🌷


جمعہ، 30 مارچ، 2018

ایک محافظ بنام علی ع


عاليجناب مولانا سید نجیب الحسن زیدی صاحب

ماہ مبارک رجب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس مہینہ میں اسلام کو سب سے پہلا محافظ ملا اور ٣٠ عام الفیل ١٣ رجب آغوش رسالت میں اس محافظ دین و شریعت نے آنکھیں کھولیں جس نے صبح قیامت تک کے لئے آئین پروردگار کو اپنی قربانیوں سے محفوظ کر دیا ۔
اسلام کے پاس چار طرح کے بڑے سرمایہ تھے جن کی حفاظت کی ضرورت تھی ، توحید پروردگار ، نبوت و رسالت ، قرآن کریم  اور کعبہ ،اسلام کو ایک ایسے محافظ کی ضرورت تھی جو ان چاروں سرمایوں کی حفاظت کرے اور اور ان کے ارد گرد ایسا مضبوظ حصار قائم کر دے کہ دشمن اپنی تمام تر کینہ توزیوں کے باوجود کبھی کوئی گزند نہ پہچا سكے.

ماہ مبارک رجب میں پروردگار نے ان چاروں سرمایوں کے لئے ایسا محافظ فراہم کر دیا جو علم کے اعتبار سے من عندہ علم الکتاب کا مصداق اور باب مدینة العلم قرار پایا تو جسمانی طاقت و قوت کے اعتبار سے لافتی کا مصداق ٹہرا اور مقام عمل میں اس نے توحید و نبوت کے ساتھ کعبہ و قرآن کی اس طرح حفاظت کی کہ کعبہ میں رکھے ہوئے بتوں کو توڑ کر توحید پروردگار کا تحفظ کیا اور آغوش رسالت میں رہ گواہی رسالت دے کر رسالت کا تحفظ کیا ، خود کعبہ میں اس کی پیدائش عظمت کعبہ کے تحفظ کا سبب بنی پیدا  ہوتے ہی  نزول قرآن سے پہلے تلاو ت قر آن کر کے قرآن کریم کی صداقت کا تحفظ کیا توبڑے ہو کر جمع قرآن جیسا عظیم کرنامہ انجام دیا اور قرآن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تحریف سے محفوظ بنا دیا دامن اسلام میں ان چار چیزوں سے باعظمت اور کون سی شئے ہے ۔ اگر ان چاروں کے بقا کو دیکھا جائے تو نظر آئے گا کہ توحید ، نبوت ، قرآن اور کعبہ چاروں ہی بنیادوں میں  علی  کی قربانیوں کی تجلی ہے جسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ہے ۔اور شاید اسلام کے ان چاروں مناروں کی پاسبانی و بقا ہی کے بل پر قدرت نے آپکا نام علی منتخب کیا چنانچہ روایت میں ملتا ہے کہ  پیغمبر اسلام  صلے اللہ علیہ و آلہوسلم نے  جب آپ کا نام  اللہ کے نام پر علی رکھاتو حضرت ابو طالب و فاطمہ بنت اسد نے پیغمبر اسلام  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے  سے عرض کیا کہ ہم نے ہاتف غیبی سے یہی نام سنا تھا۔

آپ کے مشہور القاب  امیر المومنین ، مرتضی، اسد اللہ، ید اللہ، نفس اللہ، حیدر، کرار، نفس رسول اور ساقی کوثر ہیں جن کو اگر سمیٹ کر یکجا کیا جائے تو خود بخود جو لفظ منھ سے نکلتا ہے وہ علی  بنتا ہے 

آپ ہاشمی خاندان کے وہ  پہلے فرزند ھیں جن کے والد اور و الدہ دونوں  ہاشمی ہیں۔ آپ کے والد ابو طالب بن عبد المطلب بن ہاشم ہیں اور ماں فاطمہ بنت اسد بن ہاشم ہیں ۔
 اور یہ بات تمام مورخین نے قبول کی ہے کہ ہاشمی خاندان قبیلہ قریش میں اور قریش تمام عربوں میں اخلاقی فضائل کے لحاظ سے  مشہورو معروف تھے ۔ جواں مردی ، دلیری ، شجاعت اور   بہت سے فضائل بنی ہاشم سے مخصوص تھے اور یہ تمام فضائل حضرت علی (ع) کی ذات مبارک میں بدرجہ اتم موجود تھے ۔

آپکی عظمتوں کی  سب سے پہلی گواہ آپ کی ولادت ہے ۔   مورخین نے لکھا  کہ جب آپ کی ولادت کا وقت قریب آیا تو فاطمہ بنت اسد کعبہ کے پاس ائیں اور آپنے جسم کو اس کی دیوار سے مس کر کے عرض کیا: پروردگارا ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر، تیری طرف سے نازل شدہ کتابوں پر اور اس مکان کی تعمیر کرنے والے، پنے جد ابرا ہیم ع کے کلام پر راسخ ایمان رکھتیہوں ۔

پروردگارا ! تجھے اس ذات کے احترام کا واسطہ جس نے اس مکان مقدس کی تعمیر کی اور اس بچہ کے حق کا واسطہ جو میرے شکم میں موجود ہے، اس کی ولادت کو میرے لئے آسان فرما ۔

ابھی ایک لمحہ بھی نہیں گزرا تھا کہ کعبہ کی جنوبی مشرقی دیوار ، عباس بن عبد المطلب اور یزید بن تعف کی نظروں کے سامنے شگافتہ ہوئی، فاطمہ بنت اسد کعبہ میں داخل ہوئیں اور دیوار دوبارہ مل گئی ۔ فاطمہ بنت اسد تین دن تک روئے زمین کے اس سب سے مقدس مکان میں اللہ کی مہمان رہیں اور تیرہ رجب سن ٣٠ / عام الفیل اپنی آغوش میں اسلام کا وہ محافظ لے کر نکلیں کہ دنیا میں جب تک اللہ اکبر کی آوازیں سنائی دیتی رہیں گے دنیا علی  کی قربانیوں کو یاد کرتی رہے گی  ۔