۲۵/ ذی الحجہ
#نزول_سورہ_ھل_اتی
🌹بہترین ایثار🌹 بہترین تحفہ🌹
اس دن حضرت امیر المومنین، و فاطمہ و حسن و حسین علیہم السلام کی شان میں سورہ "ھل اتی علی الانسان" کا نزول ہوا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت رونما ہوتا ہے جب ان حضرات نے تین دن تک روزہ رکھا اور تینوں دن اپنے افطار کو مسکین، یتیم اور اسیر کو عطا کردیا، جس پر ان کے لئے بہشت سے طعام آیا۔
[مسار الشیعہ، شیخ مفید رح، ص۴۲؛ مناقب آل أبي طالب عليهم السلام، ج۳، ص۳۷۵]
⭕️حضرت حسنین(ع) کا بیمار پڑنا⭕️
حضرت حسنین (ع) بچپنے میں ایک روز بیمار ہوئے، پیغمبر اکرم(ص) اور بعض اصحاب عیادت کے لئے آئے، کسی نے حضرت علی (ع) سے کہا:کاش آپ اپنے بچوں کے لئے نذر کرتے تاکہ خدا انہیں جلدی شفا دیتا۔ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا: میں نذرکرتا ہوں کہ اگر میرے بیٹے صحتیاب ہوگئے تو تین دن روزہ رکھوں گا۔ حضرت زہرا(س) اور دونوں بیٹوں نے اور آپ(ع) کی کنیز ’’جناب فضہ‘‘ نے بھی امام(ع) کی طرح نذر کی ۔ اور کچھ دنوں میں شہزادے صحتیاب ہوگئے، لہذا سب نے روزہ رکھنا شروع کیا۔
⚪️روزے کی شان⚪️
جب پہلے دن روزہ رکھا گیا، حضرت امیرالمومنین(ع) نے دیکھا کہ گھر میں افطار کے لئے کچھ نہیں ہے، اپنے ایک پڑوسی ’’شمعون‘‘ کے پاس گئے جس کا مشغلہ اون کا تھا، اور اس سے کہا: کیا ہمیں کچھ اون دے سکتے ہو تاکہ دختر رسول خدا (ص) تین صاع جو کے عوض اسے درست کرے؟ اس نے قبول کرلیا۔
حضرت امیر(ع) اون اور جو حضرت زہرا(س) کے پاس لائے ، آپ بھی خوشحال ہوئیں اور ایک تہائی اون درست کیا، اس کے بعد کچھ جو کا آٹا بنایا اور پانچ روٹیاں تیار کیں۔
مغرب کے وقت امام(ع) نے مسجد النبی(ص) میں نماز ادا کی اور گھر تشریف لائے، سب لوگ دسترخوان کے پاس تشریف فرما ہوئے۔ جیسے ہی امام(ع) نے پہلا لقمہ اٹھایا، کسی مسکین نے دق الباب کیا اور کہا: اے اہل بیت محمد(ص)، آپ پر سلام ہو، میں مسلمانوں میں سے ایک مسکین آدمی ہوں، بھوکا ہوں؛ جو آپ تناول فرما رہے ہیں اس میں سے ہمیں بھی عطا کریں تاکہ خدا اس کے عوض جنت کے کھانے سے نوازے۔ امام(ع) نے اس کی آواز سنی ، لقمہ رکھ دیا اور کچھ اشعار پڑھتے ہوئے حضرت فاطمہ(س) سے کہا کہ کھانا اسے دے دیں۔ حضرت زہرا(س) نے بھی قبول فرمایا اور ساری روٹیاں اسے دے دیں اور سب نے پانی سے افطار کیا اور اسی حالت میں دوسرے دن کا روزہ رکھا۔
دوسرے دن بھی حضرت زہرا(س) نے ایک تہائی اون کاتا اور کچھ مقدار میں جو پیسا اورروٹیاں تیار کیں۔ جب امیرالمومنین(ع) مسجد سے تشریف لائے ، سب لوگ دسترخوان پر بیٹھے، جیسے ہی پہلا لقمہ اٹھایا ایک یتیم نے دق الباب کیا اور کہا: اے اہل بیت رسول(ص)! آپ پر سلام ہو، میں مسلمان یتیموں میں سے ایک یتیم ہوں، بھوکا ہوں؛ اپنے کھانے میں سے مجھے بھی عطا کیجئے خدا اس کے بدلے جنت کا کھانا عطا کرے۔ انہوں نےپہلے کی طرح ساری روٹیاں اس کے حوالے کردیں اور پانی کے ذریعہ افطار فرمایا اور دوسرے دن کا روزہ رکھ لیا۔
تیسرے دن بھی حضرت زہرا(س) نے باقی اون کاتا اور جو پیسا، اس کی روٹیاں تیار کیں اور دونوں دنوں کی طرح دسترخوان پر جمع ہوئے، جیسے ہی پہلا لقمہ اٹھایا کہ ایک اسیر نے دروازہ کھٹکھٹایا اور بھیک مانگی۔ انہوں نے پھر ساری روٹیاں اس کو دے دیں۔
◻️جب صبح ہوئی تو امام(ع) اپنے شہزادوں کے ساتھ رسول(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے، جبکہ دونوں شہزادے بھوک سے لرز رہے تھے، رسول اکرم(ص) بہت غمگین ہوئے اور ساتھ میں حضرت امیرالمومنین(ع) کے گھر آئے، دیکھتے ہیں کہ حضرت زہرا(س) اپنی محراب عبادت میں ہیں اور بھوک سے پیٹ پیٹھ سے ملا ہوا، اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں، تبھی حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور انکی شان میں سورہ ’’ہل اتی‘‘ لیکر آئے ۔
📖و يطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً وَ يَتِيماً وَ أَسِيراً (8) إِنَّما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزاءً وَ لا شُكُوراً ۔۔۔۔۔
📖 اور یہ اپنی خواہش اور ضرورت کے باوجود مسکین یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں، ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، ہم اپنے پروردگار سے اس دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جس دن چہرے بگڑ جائیں گے اور ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی، تو خدا نے انہیں اس دن کی سختی سے بچالیا اور تازگی اور سرور عطا کردیا، اور انہیں ان کے صبر کے عوض جنّت اور حریر جنّت عطا کرے گا، جہاں وہ تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے نہ آفتاب کی گرمی دیکھیں گے اور نہ سردی.۔۔۔۔
📚 الأمالي( للصدوق)، ص۲۵۷، المجلس الرابع و الأربعون؛ البرهان في تفسير القرآن، ج۵، ص۵۴۹، [الإنسان، الآيات ۵ الى ۲۳]
