۱۰/ محرم
#عاشورا
۱ - شہادت امام حسین علیہ السّلام:
اس دن سن ۶۱ ہجری بروز شنبہ [مناقب آل ابی طالب، ج۳، ص۲۳۱؛ تہذیب الاحکام، ج۴، ص۳۳۳؛ کامل الزیارات، ص۱۵۳۔۔۔] یا جمعہ [تاج الموالید الائمہ، ص۲۰؛ تاریخ دمشق، ج۱۴، ص۲۵۰۔۔۔] ہمارے آقا و مولا حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کو ۵۸ سال (یا ۵۶ یا ۵۷ سال) کی عمر مبارک میں، نمازِ ظہر کے بعد، سرزمینِ کربلا پر بھوک اور پیاس کے عالم میں انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید کردیا گیا۔ [کافی، ج۱، ص۴۶۳؛ ارشاد، ج۲، ص۱۳۳؛ اعلام الوریٰ، ج۱، ص۴۲۰۔۔۔]
یہ دن آسمان سے خون کی بارش کا دن ہے، ایسا دن جس میں امام حسین علیہ السلام کے اہل بیت اور اصحاب کی شہادت کا عظیم سانحہ رونما ہوا۔ [زاد المعاد، ص ۳۰۶-۳۰۷]
اس دن چار ہزار فرشتے آپ کی نصرت کے لیے کربلا کی زمین پر نازل ہوئے، مگر چونکہ انہیں (جنگ کی) اجازت نہ ملی، اس لیے وہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور تک امام علیہ السلام کی قبرِ اطہر کے پاس گریہ و زاری کرتے ہوئے مقیم ہیں۔ [کامل الزیارات، ص۲۳۴، ۴۵۴؛ کمال الدین، ص۶۷۲۔۔۔]
اس دن مناسب ہے کہ کھانے پینے سے، خاص طور پر لذیذ غذاؤں سے پرہیز کیا جائے۔ [توضیح المقاصد، ص۳؛ مسار الشیعہ، ص۲۵]
۲ - شہادت حبیب بن مظاہر اسدی کوفی۔ [مثیر الاحزان، ص۳۲۔۔۔]
۳ - شہادت مسلم بن عوسجہ۔ [بحار الانوار، ج۳۵، ص۲۰، ۲۶۔۔۔]
۴ - شہادت حر بن یزید ریاحی۔
۵ - شہادت جون مولی ابی ذر الغفاری۔ [بحار الانوار، ج۴۵، ص۲۲۔۔۔]
۶ - شہادت زوجۂ وہب، بدست رستم غلام شمر۔ [مقتل الحسین (ابی مخنف)، ص۱۴۱۔۔۔]
۷ - شہادت شبیہ پیمبر صلّی اللَّہ علیہ و آلہ، حضرت علی اکبر علیہ السّلام، سیّد الشّہداء علیہ السّلام کے فرزند اکبر اور حضرت صاحب الامر علیہ السّلام کے چچا۔
۸ - شہادت قاسم بن الحسن علیہ السّلام۔ [ارشاد، ج۲، ص۱۰۷۔۔۔]
۹ - شہادت عبداللَّہ بن الحسن علیہ السّلام۔
۱۰ - شہادت قمر منیر بنی ہاشم حضرت عباس بن علی بن ابی طالب علیہ السّلام۔
۱۱. شہادت باب الحوائج حضرت علی اصغر علیہ السّلام۔
۱۲ – لہو سے نہائے ذوالجناح کا خیام حسینی کی جانب آنا اور خبر شهادت لانا۔
۱۳ – مخدّرات عصمت کا سیّد الشّہداء علیہ السّلام، اولاد اور اصحاب کی شہادت پر نوحہ و ماتم۔
۱۴ – خیمہ گاہ حسینی سے مال و اسباب کی لوٹ مار۔
۱۵ – حضرت شید الشہداء کی شہادت کے بعد مخدّرات کا صحرا میں سرگرداں ہونا۔
۱۶ – شہدائے کربلا کے جسد اقدس سے لباس اور زرہ۔۔۔ کا لوٹا جانا۔
۱۷ – سید الشہداء، اعزّا و انصار کے سروں کا جدا کیا جانا۔
۱۸ – خیام آل اللہ و اہل بیت رسول خدا و علی مرتضی و فاطمۃ الزھراء علیہم السلام کو آگ کے حوالے کیا جانا۔
۱۹ – کمسن بچیوں کی خیموں کے نزدیک شہادت۔
۲۰ – زمین و زمان، عرش و آسمان، جن و انس، حیوانات اور ملائک کا سیّد الشّہداء علیہ السّلام پر گریہ و ماتم۔
اس دن ایک فرشتے نے ندا دی: اے ظالم امت! تم نے اپنے نبی کی عترت کو قتل کر ڈالا ہے؛ اللہ تمہیں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی توفیق نہ دے۔ [کافی، ج۴، ص۱۷۰؛ وسائل الشیعہ: ج 4، ص 213؛ من لا یحضرہ الفقیہ، ج۲، ص۸۹، ۱۷۵۔۔۔]
۲۱ - رأس مطهر امام حسین علیہ السّلام کوفه میں:
عصرِ عاشورا امام حسین علیہ السلام کا نورانی سر مقدس خولی بن یزید اصبحی (ملعون) اور حمید بن مسلم ازدی کے ذریعے کوفہ بھیجا گیا۔ [بحار الانوار، ج۴۵، ص۶۲، ۱۰۷؛ ارشاد، ج۲، ص۱۱۳؛ ۔۔۔]
۲۲ - اس روز کے عظیم مصیبت خیز سانحے کے اثر سے زمین سے جس بھی پودے کی جڑ کھینچی جاتی، وہ خون آلود نکلتی تھی۔ [کامل الزیارات، ص۱۵۹۔۔۔]
۲۳ - قتل ابن زیاد:
ابن زیاد کو عاشورا کے دن سنہ ۶۷ ہجری میں مختار کے حکم سے اپنے اعمال کے ظاہری انجام تک پہونچا اور قتل کیا گیا۔ حصین بن نمیر اور امام حسین علیہ السلام کے چند دیگر قاتلین بھی اس کے ساتھ مارے گئے۔ [بحار الانوار، ج۴۵، ص۳۸۳، ۳۸۵؛ استیعاب، ج۱، ص۳۹۶؛ البدایہ و النہایہ، ج۸، ص۳۱۰۔۔۔]
ابنِ زیادِ ملعون ابراہیم بن مالک اشتر نخعی کے ہاتھوں قتل ہوا اور اس کا منحوس سر مختار کے پاس بھیجا گیا۔ مختار نے بھی اسے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمتِ اقدس میں روانہ کر دیا۔ جب ابنِ زیاد کا سر امام کے سامنے پیش کیا گیا تو اس وقت آپ علیہ السلام دسترخوان پر تشریف فرما تھے۔
آپ علیہ السلام نے فوراً سجدۂ شکر ادا کیا اور فرمایا:
جس روز ہمیں ابنِ زیاد کے دربار میں پیش کیا گیا تھا، وہ کھانا کھا رہا تھا، اس وقت میں نے خداوندِ متعال سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے اس وقت تک موت نہ دے جب تک میں اس کے سر کو اپنی مجلسِ طعام میں نہ دیکھ لوں، جس طرح میرے والدِ گرامی کا سر اس کے سامنے رکھا ہوا تھا اور وہ کھانے میں مشغول تھا۔ اللہ مختار کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ اس نے ہمارے خون کا بدلہ لیا۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا: آپ سب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ [ذوب النضار، ص۱۴۴؛ بحار الانوار، ج۴۵، ص۳۳۶؛ امالی طوسی، ص۲۴۳۔۔۔]
۲۴ - قیام حضرت حجت علیہ السّلام:
ایک روایت کے مطابق حضرت بقیۃ اللَّہ الاعظم حجۃ بن الحسن العسکری ارواحنا لہ الفدا اسی روز قیام فرمائیں گے۔ [الغیبۃ (نعمانی) ص۲۸۲؛ تہذیب الاحکام، ج۴، ص۳۲۳؛ کمال الدین، ص۶۵۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۸۶؛ کشف الغمہ، ج۲، ص۴۶۲]
۲۵ - وفات جناب امّ سلمہ:
اسی دن سنہ ۶۲ یا ۶۳ ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ محترمہ، جناب اُمِّ سلمہ نے دنیا سے رحلت فرمائی۔۔۔ [مستدرک سفینۃ البحار، ج۵، ص۲۱۵؛ تاریخ دمشق، ج۳، ص۲۱۱]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۰ محرم، ص۲۵
