علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

جمعہ، 9 مارچ، 2018

ولادت حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا

۞ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

🔹 إنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ اَلْکَوْثَرَ (۱)

🔹 فصَلِّ لِرَبِّکَ وَ اِنْحَرْ (۲)

 🔹إنَّ شٰانِئَکَ هُوَ اَلْأَبْتَرُ (۳) 

💢اے پیغمبر! بے شک ہم نے آپ کو کوثر (خیر کثیر) عطا کیا ہے.

💢 لہذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں.

💢 یقینا آپ کا دشمن بے اولاد رہے گا.


کوثر:

     🔷🔹 یعنی خیر کثیر...❤️

     🔷🔹 یعنی کثرت نسل...❤️

     🔷🔹 یعنی نعمت فراوان...❤️

💢 (فاطمہ) اس عظیم ترین نعمت الہی کا نام ہے جسے خدا نے اپنے رسول کو 🌹🌹🌹🌹🌹تحفے میں دیا۔

🔻🔺🔻🔺🔻🔺🔻🔺🔻🔺🔻🔺🔻

🌹🌹یوم ولادت
👈ملیکہ ملکوت،
👈👈حبیبہ حبیب خدا،
👈👈👈انسیۃ الحورا،
👈👈👈👈یعنی 🌷حضرت #فاطمۃ_الزہرا (سلام اللہ علیہا)
کے موقع پر تمام قارئین، جملہ مومنین، علمائے کرام، مراجع عظام و خصوصا آخری امام حضرت ولی عصر عج کی خدمت میں تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں۔
🌷
🌷🌷
 🌷🌷🌷
🌷🌷🌷🌷
🌷🌷🌷🌷🌷


☀️ #حضرت_فاطمہ_سلام_اللہ_علیہا

کیوں #فاطمہ؟

🔮حضرت امام صادق علیہ السلام:

🌹إنَّمَا سُمِّيَتْ فَاطِمَةَ لِأَنَّ الْخَلْقَ فُطِمُوا عَنْ مَعْرِفَتِهَا

🌷فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو اسلئے فاطمہ نام دیا گیا کیونکہ لوگوں کو انکی  معرفت حاصل ہی نہیں ہوسکتی. [۱].

کیوں #بتول؟

🔮حضرت امام صادق علیہ السلام:

🌹و سُمِّيَتْ فَاطِمَةُ بَتُولًا لِأَنَّهَا بُتِلَتْ عَنِ النَّظِيرِ.

🌷اور فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو بتول کہا جاتا ہے اس لئے کہ ان کا کوئی ثانی نہیں [۲].

کیوں #زہرا؟

🔮حضرت امام صادق علیہ السلام:

🌹لأَنَّهَا كَانَتْ إِذَا قَامَتْ فِي مِحْرَابِهَا زَهَرَ نُورُهَا لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا يَزْهَرُ نُورُ الْكَوَاكِبِ لِأَهْلِ الْأَرْضِ.

🌷اس لئے کہ جب وہ محراب عبادت میں نماز کے لئے قیام فرماتی تھیں، ان کا نور آسمان والوں کو بھی دکھائی پڑتا تھا، جس طرح آسمان کے ستاروں کا نور زمیں والوں پر چمکتا ہے۔[۳].

کیوں #محدثه؟

🔮 حضرت امام صادق علیہ السلام:

🌹إنَّمَا سُمِّيَتْ فَاطِمَةُ ع مُحَدَّثَةً لِأَنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ فَتُنَادِيهَا كَمَا تُنَادِي مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَتَقُولُ يَا فَاطِمَةُ اللَّهُ اصْطَفاكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفاكِ عَلى‏ نِساءِ الْعالَمِينَ....

فَتُحَدِّثُهُمْ وَ يُحَدِّثُونَهَا

فَقَالَتْ لَهُمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَ لَيْسَتِ الْمُفَضَّلَةُ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَقَالُوا إِنَّ مَرْيَمَ كَانَتْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ عَالَمِهَا وَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَكِ سَيِّدَةَ نِسَاءِ عَالَمِكِ وَ عَالَمِهَا وَ سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ.

🌷حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کو اس بنا پر #محدثہ کہا گیا کیوں کہ آپ پر آسمان سے ملائکہ نازل ہوتے تھے اور مریم بنت عمران کی طرح آپ سے گفتگو کرتے تھے۔

🔸وہ کہتے تھے: اے فاطمہ! خدا نے آپ کو منتخب کیا، اور پاک و پاکیزہ قرار دیا، اور پوری دنیا کی خواتین پر فضیلت بخشی۔

اس طرح وہ ملائک سے ہمکلام ہوتی تھیں اور ملائک آپ سے گفتگو فرمایا کرتے تھے۔

⚜️ایک رات حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے ملائک سے کہا: کیا مریم بنت عمران کو تمام عورتوں پر فضیلت نہیں بخشی گئی؟

ملائک جواب دیتے ہیں: مریم اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار تھیں، لیکن خدا نے آپ کو آپ کے، اور مریم کے زمانے یہاں تک کہ تمام زمانوں کی عورتوں کی سیدہ قرار دیا ہے [۴].

📚[۱] تفسير فرات الكوفي، ص581، [سورة القدر(97): الآيات 1 الى 5]

📚 بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏43، ص65، باب 3 مناقبها و فضائلها و بعض أحوالها و معجزاتها صلوات الله عليها

📚[۲] بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏43، ص16، باب 2 أسمائها و بعض فضائلها ع

📚[۳] معاني الأخبار، ص64، باب معاني أسماء محمد و علي و فاطمة و الحسن و الحسين و الأئمة ع

📚 علل الشرائع، ج‏1، ص181، 143 باب العلة التي من أجلها سميت فاطمة الزهراء ع زهراء

📚[۴] علل الشرائع، ج‏1، ص182، باب العلة التي من أجلها سميت فاطمة ع محدثة

📚دلائل الإمامة (ط - الحديثة)، ص81، معنى المحدثة

💐💐💐💐💐

بدھ، 7 مارچ، 2018

دعا کے قبول نہ ہونے کے اسباب

#دعا_قبول_نہیں_ہوتی

💢سات دلیلیں دعا کے مستجاب نہ ہونے کے بارے میں:

حضرات معصومین علیہم السلام سے دعا کے مستجاب نہ ہونے  پر مختلف روایتیں منقول ہوئی ہیں.

✔️اول: گناہ


خداوند متعال فرماتا ہے:

📔إنَ‏ الْعَبْدَ يَدْعُونِي‏ لِلْحَاجَةِ فَآمُرُ بِقَضَائِهَا فَيُذْنِبُ‏ فَأَقُولُ‏ لِلْمَلَكِ‏ إِنَ‏ عَبْدِي‏ قَدْ تَعَرَّضَ‏ لِسَخَطِي‏ بِالْمَعْصِيَةِ فَاسْتَحَقَ‏ الْحِرْمَانَ‏ وَ إِنَّهُ‏ لَا يَنَالُ‏ مَا عِنْدِي‏ إِلَّا بِطَاعَتِي

📜بندہ حاجت طلب کرتا ہے تو میں اس کی حاجت پوری کرنے کا حکم دیتا ہوں، لیکن پھر وہ گناہ انجام دیتا ہے، تو فرشتوں سے کہتا ہوں اس نے مجھے گناہ اور معصیت کے ذریعہ ناراض کیا ہے، لہذا اس نے خود کو نعمت سے محرومیت کا مستحق قرار دے لیا، وہ میری نعمتوں تک نہیں پہونچ سکتا مگر یہ کہ میری اطاعت کرے۔

📚 إرشاد القلوب إلى الصواب (للديلمي)، ج‏1، ص149، الباب السابع و الأربعون في الدعاء و بركته و فضله. 

✔️دوم: مال حرام


📔عن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تُلَيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُواْ مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلاَلاً طَيِّباً} فَقَامَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ أَطِبْ مَطْعَمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ، وَالذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَقْذِفُ اللُّقْمَةَ الْحَرَامَ فِي جَوْفِهِ مَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَأَيُّمَا عَبْدٍ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنَ السُّحْتِ وَالرِّبَا فَالنَّارُ أَوْلَى بِه۔

📜ابن عباس سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم(ص) کے حضور " يَا أَيُّهَا۔۔۔ اے انسانو! زمین میں جو کچھ بھی حلال و طیب ہے اسے استعمال کرو" کی تلاوت کی گئی، سعد ابن وقاص کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لئے خدا سے دعا کردیجئے تاکہ وہ میری دعا قبول فرمالے، رسول اکرم(ص) نے فرمایا: اے سعد! اپنے کھانے کو پاکیزہ بناؤ تاکہ تمہاری دعا مستجاب ہو۔

خدا کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص لقمۂ حرام کھاتا ہے اس کی چالیس دن تک دعائیں قبول نہیں ہوتیں، جس شخص کا گوشت ربا اور حرام سے بنا ہو وہ آگ کا مستحق ہے۔

📚المعجم الأوسط، الطبراني ج 6، ص 310؛ الدر المنثور فى التفسير بالماثور، ج‏1، ص167.

🌷حضرت امام صادق علیہ السلام:

📔إذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ‏ أَنْ‏ يُسْتَجَابَ‏ لَهُ‏ فَلْيُطَيِّبْ‏ كَسْبَهُ‏ وَ لْيَخْرُجْ‏ مِنْ‏ مَظَالِمِ‏ النَّاسِ‏ وَ إِنَ‏ اللَّهَ‏ لَا يُرْفَعُ‏ إِلَيْهِ‏ دُعَاءُ عَبْدٍ وَ فِي بَطْنِهِ حَرَامٌ أَوْ عِنْدَهُ مَظْلِمَةٌ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِه‏

📜جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی دعا مستجاب ہو، اسے چاہئے کہ اپنی کمائی کو پاکیزہ بنائے اور لوگوں کا حق ادا کردے، بیشک اس شخص کی دعا بارگاہ خداوندی تک نہیں پہونچتی جس کے پیٹ میں حرام غذا ہو یا اس کی گردن پر کسی کا حق موجود ہو۔

📚بحار الأنوار (ط - بيروت)، ج‏90، ص321، باب 17 آداب الدعاء...
  

✔️ سوم: والدین کی نافرمانی


🌷حضرت امام صادق علیہ السلام:

📔۔۔۔وَ الَّتِي تَرُدُّ الدُّعَاءَ وَ تُظْلِمُ الْهَوَاءَ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ.

📜 اور جو گناہ دعا کو رد کردیتے ہیں اور دنیا کو تاریک بنا دیتے ہیں والدین کی نافرمانی ہے۔

📚الكافي( ط- الإسلامية)، ج ‏2، ص 448؛ علل الشرائع، ج‏2، ص584، باب نوادر العلل
  

✔️چہارم: ظلم و ستم


🌷حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ

📔لاَ تَظْلِمُوا فَتَدْعُوا فَلَا يُسْتَجَابُ لَكُمْ وتَسْتَسْقُوا فَلاَ تَسْقُوا وتَسْتَنْصِرُوْا فَلاَ تُنْصَرُوا

📜ظلم نہ کرو، کیونکہ اس صورت میں دعا کروگے لیکن تمہاری #دعا مستجاب نہ ہوگی، طلب بارش کروگے لیکن بارش نہ ہوگی، خدا سے مدد مانگوگے لیکن مدد نہیں ملے گی۔

📚مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ج5، ص423۔

🌷حضرت امیر المومنین علیہ السلام:

📔إنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَوْحَى إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ قُلْ لِلْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يَدْخُلُوا بَيْتاً مِنْ بُيُوتِي إِلَّا بِقُلُوبٍ طَاهِرَةٍ وَ أَبْصَارٍ خَاشِعَةٍ وَ أَكُفٍّ نَقِيَّةٍ وَ قُلْ لَهُمُ اعْلَمُوا أَنِّي غَيْرُ مُسْتَجِيبٍ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ دَعْوَةً وَ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِي قِبَلَهُ مَظْلِمَة

📜امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا نے حضرت عیسی علیہ السلام پر وحی کی کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں سے کہہ دو: میرے کسی بھی گھر میں پاک دلوں، جھکی نظروں، اور پاکیزہ ہاتھوں کے سوا کوئی وارد نہ ہو، اور ان سے کہہ دو: جان لو کہ میں تم میں اور اپنی مخلوق میں سے جس نے بھی ظلم کیا ہو کسی کی بھی #دعا قبول نہیں کرونگا۔

📚الخصال، صدوق، محمد بن علی، ج‏1، ص337۔

🌷حضرت امام صادق علیہ السلام:

📔منْ عَذَرَ ظَالِماً بِظُلْمِهِ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ مَنْ يَظْلِمُهُ فَإِنْ دَعَا لَمْ يَسْتَجِبْ لَهُ وَ لَمْ يَأْجُرْهُ اللَّهُ عَلَى ظُلَامَتِه

📜جو شخص ظالم کے ظلم پر عذر تراشے اور اس کی توجیہ کرے، خدا اس پر ایسے کو مسلط کردیتا ہے جو اس پر ظلم کرے، اس وقت اگر وہ ظلم سے نجات کی #دعا کرے تو قبول نہیں کرتا، اور جو اس پر ظلم ہورہا ہے اس کا اجر بھی نہیں دیتا۔

📚الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏2، ص334، باب الظلم

پنجم: قطع رحم


🌷حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ

 📔...قَطِيعَةُ الرَّحِمِ تَحْجُبُ الدُّعَاء

📜رشتہ داروں نے ناتا توڑنا، قطع رحم کرنا #دعا کے قبول ہونے میں حائل ہوجاتا ہے۔

📚نزهة الناظر و تنبيه الخاطر، ص37، طرف من كلام رسول الله صلى الله عليه و آله فى آدابه، و مواعظه، و أمثاله، و حكمه
📚مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل، ج‏12، ص334، 39 - باب تحريم التظاهر بالمنكرات و ذكر جملة من المحرمات و المكروهات
  

ششم: امر بالمعروف ترک کردینا


🌷حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ

📔.....وَ إِذَا لَمْ يَأْمُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَ لَمْ يَنْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَ لَمْ يَتَّبِعُوا الْأَخْيَارَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَشْرَارَهُمْ فَيَدْعُو عِنْدَ ذَلِكَ خِيَارُهُمْ فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ.

📜اور جب لوگ اچھے کاموں کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں اور ہمارے اہل بیت کی پیروی نہ کریں تو خدا ان پر اشرار کو حاکم بنا دیگا اس وقت ان کے نیک لوگ #دعا بھی کریں گے تو مستجاب نہیں ہوگی۔

📚تحف العقول، ص51، و روي عنه ص في قصار هذه المعاني
📚الأمالي( للصدوق)، ص308، المجلس الحادي و الخمسون

🌷حضرت امام کاظم علیہ السلام:

📔لتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَ لتنهين [لَتَنْهُنَ‏] عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُسْتَعْمَلَنَّ عَلَيْكُمْ شِرَارُكُمْ فَيَدْعُو خِيَارُكُمْ وَ لَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ.

📜محمد بن عرفہ کہتے ہیں میں امام کاظم علیہ السلام سے سنا ہے؛ آپ (ع) فرماتے ہیں: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دو۔ نہیں تو تمہارے برے لوگ تم پر مسلط ہو جائیں گے اس وقت تمہارے نیک لوگ #دعا کریں گے لیکن مستجاب نہیں ہوگی۔

📚مشكاة الأنوار في غرر الأخبار، ص50، الفصل الثالث عشر في الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر 

ہفتم: نماز کو سبک شمار کرنا


👈🏼👈🏼نماز کو سبک شمار کرنا بہت سی مصیبتوں کا سبب ہے. ان میں سے ایک یہ ہے کہ نماز کو ہلکا سمجھنے والے کی دعا مستجاب نہیں ہوتی.

🌷حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ

📔أرْوِي بِحَذْفِ الْإِسْنَادِ عَنْ سَيِّدَةِ النِّسَاءِ فَاطِمَةَ ابْنَةِ سَيِّدِ الْأَنْبِيَاءِ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهَا وَ عَلَى أَبِيهَا وَ عَلَى بَعْلِهَا وَ عَلَى أَبْنَائِهَا الْأَوْصِيَاءِ أَنَّهَا سَأَلَتْ أَبَاهَا مُحَمَّداً ص فَقَالَتْ يَا أَبَتَاهْ مَا لِمَنْ تَهَاوَنَ بِصَلَاتِهِ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ قَالَ يَا فَاطِمَةُ مَنْ تَهَاوَنَ بِصَلَاتِهِ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَاءِ ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِخَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً سِتٌّ مِنْهَا فِي دَارِ الدُّنْيَا وَ ثَلَاثٌ عِنْدَ مَوْتِهِ وَ ثَلَاثٌ فِي قَبْرِهِ وَ ثَلَاثٌ فِي الْقِيَامَةِ إِذَا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ فَأَمَّا اللَّوَاتِي تُصِيبُهُ فِي دَارِ الدُّنْيَا فَالْأُولَى يَرْفَعُ اللَّهُ الْبَرَكَةَ مِنْ عُمُرِهِ وَ يَرْفَعُ اللَّهُ الْبَرَكَةَ مِنْ رِزْقِهِ وَ يَمْحُو اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ سِيمَاءَ الصَّالِحِينَ مِنْ وَجْهِهِ وَ كُلُّ عَمَلٍ يَعْمَلُهُ لَا يُؤْجَرُ عَلَيْهِ وَ لَا يَرْتَفِعُ دُعَاؤُهُ إِلَى السَّمَاءِ وَ السَّادِسَةُ لَيْسَ لَهُ حَظٌّ فِي دُعَاءِ الصَّالِحِينَ وَ أَمَّا اللَّوَاتِي تُصِيبُهُ عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَوَّلُهُنَّ أَنَّهُ يَمُوتُ ذَلِيلًا وَ الثَّانِيَةُ يَمُوتُ جَائِعاً وَ الثَّالِثَةُ يَمُوتُ عَطْشَاناً فَلَوْ سُقِيَ مِنْ أَنْهَارِ الدُّنْيَا لَمْ يُرَوِّ عَطَشَهُ وَ أَمَّا اللَّوَاتِي تُصِيبُهُ فِي قَبْرِهِ فَأَوَّلُهُنَّ يُوَكِّلُ اللَّهُ بِهِ مَلَكاً يُزْعِجُهُ فِي قَبْرِهِ وَ الثَّانِيَةُ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ وَ الثَّالِثَةُ تَكُونُ الظُّلْمَةُ فِي قَبْرِهِ وَ أَمَّا اللَّوَاتِي تُصِيبُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ فَأَوَّلُهُنَّ أَنْ يُوَكِّلَ اللَّهُ بِهِ مَلَكاً يَسْحَبُهُ عَلَى وَجْهِهِ وَ الْخَلَائِقُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَ الثَّانِيَةُ يُحَاسَبُ حِساباً شَدِيداً وَ الثَّالِثَةُ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ وَ لَا يُزَكِّيهِ وَ لَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ.

✍🏼سید ابن طاووس حذف اسناد کے ساتھ جناب زھرا سلام اللہ علیہا سے ایک روایت نقل فرماتے ہیں کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا  اپنے بابا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ سے سوال کرتی ہیں، فرماتی ہیں: بابا! مردوں اور عورتوں میں سے جو نماز کو ہلکا سمجھتا ہے اس کے لئے کیا ہے؟

رسول خدا(ص) نے فرمایا: اے فاطمہ! مردوں اور عورتوں میں جو بھی نماز کو ہلکا سمجھے گا، خدا اسے  ۱۵پندرہ بلاؤوں میں مبتلا کرے گا۔ چھ بلائیں دنیا میں، تین موت کے وقت، تین قبر میں، اور تین بلائیں قیامت کے دن جب قبر سے نکالا جائے گا۔

🔳لیکن جو دنیا میں اسے ملے گا:

1️ خدا اس کی عمر سے برکت اٹھا لیتا ہے،

2️روزی سے برکت چھین لیتا ہے،

3️اسکے چہرے سے صالحین کی نشانیاں مٹا دیتا ہے،

4️جو بھی انجام دے اس کی جزا نہیں ملتی،

5️اس کی #دعا #مستجاب نہیں ہوتی،

6️نیک لوگوں کی #دعا سے اسے کچھ نہیں ملتا۔

🔳اور وہ چیز جو موت کے وقت ملتی ہے:

1️پہلی چیز یہ ہے کہ رسوا ہوکر مرتا ہے،

2️بھوکا مرتا ہے،

3️پیاس کے عالم میں موت آتی ہے، اسے دنیا کی نہریں بھی پلادی جائیں تو سیراب نہیں ہوتا۔

🔳جو چیزیں قبر میں ملتی ہیں:

1️پہلی چیز یہ کہ خدا قبر میں ایک فرشتہ معین کرتا ہے جو اسے اذیت دے،

2️اسکی قبر کو تنگ کردیتا ہے،

3️تیسرے یہ کہ اس کی قبر تاریک ہوتی ہے۔

🔳اور وہ چیزیں جو قیامت کے دن قبر سے اٹھائے جانے کے وقت ملیں گی:

1️خدا ایک فرشتہ کو معین کرے گا جو اسے منھ کے بل گھسیٹے گا جبکہ لوگ اسے دیکھ رہے ہونگے

2️اس سے سخت حساب لیا جائے گا،

3️خدا اس کی طرف توجہ نہیں کرے گا اور اسے پاک نہیں کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔

📚فلاح السائل و نجاح المسائل، ابن طاووس، ص22، الفصل الأول في تعظيم حال الصلاة و أن مهملها من أعظم الجناة



جمعہ، 2 مارچ، 2018

مجھے تعجب ہے

 

🌹🌹حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

💢عجِبْتُ لِمَنْ يَرْغَبُ فِي التَّكَثُّرِ مِنَ الْأَصْحَابِ كَيْفَ لَا يَصْحَبُ الْعُلَمَاءَ الْأَلِبَّاءَ الْأَتْقِيَاءَ الَّذِينَ تُغْتَنَمُ فَضَائِلُهُمْ وَ تَهْدِيهِ عُلُومُهُمْ وَ تُزَيِّنُهُ صُحْبَتُهُم‏

✍🏼#تعجب ہے اس پر جو چاہتا ہے کہ اس کے چاہنے والے زیادہ ہوں، لیکن صاحب عقل و خرد اور متقی علماء کے ساتھ نہیں رہتا، ایسے علماء جن کی خوبیوں سے فائدہ ملتا ہے اور ان کا علم اسے ہدایت عطا کرتا ہے اور ان کے ساتھ ہمنشینی اسے آراستہ بناتی ہے❗️

📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص330، الفصل الثاني بلفظ عجبت
📚تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص430، صاحب الحكماء و العلماء

💢عجِبْتُ لِمَنْ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ ضَمِنَ الْأَرْزَاقَ وَ قَدَّرَهَا وَ أَنَّ سَعْيَهُ لَا يَزِيدُهُ فِيمَا قُدِّرَ لَهُ وَ هُوَ حَرِيصٌ دَائِبٌ فِي طَلَبِ الرِّزْق‏

✍🏼 #تعجب ہے اس پر جو جانتا ہے کہ خدا نے رزق کی ضمانت لے رکھی ہے اور مقرر کردیا ہے اور جو چیز اس کے لئے مقدر کردی گئی ہے اس میں اس کی کوششیں کچھ بھی اضافہ نہیں کرسکتیں، پھر بھی رزق کی لالچ میں دوڑتا رہتا ہے❗️

📚تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص396، الفصل السابع الرزق بيد الله

💢عجِبْتُ لِمُتَكَبِّرٍ كَانَ أَمْسِ نُطْفَةً وَ هُوَ غَداً جِيفَة

✍🏼 #تعجب اس پر جو کل گندہ پانی تھا اور آئندہ بدبودار لاش ہوگا، پھر بھی غرور و گھمنڈ میں مبتلا  ہے❗️

📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص329، الفصل الثاني بلفظ عجبت

💢عجِبْتُ لِمَنْ يُنْكِرُ عُيُوبَ النَّاسِ وَ نَفْسُهُ أَكْثَرُ شَيْ‏ءٍ مَعَاباً وَ لَا يُبْصِرُهَا

✍🏼 #تعجب ہے اس پر جو لوگوں کے عیوب کو برا جانتا ہے اور خود برائیوں سے بھرا پڑا ہے اور ان پر نظر نہیں کرتا❗️

📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص330، الفصل الثاني بلفظ عجبت
📚تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص234، معرفة المرء بعيبه

💢عجِبْتُ لِمَنْ عَرَفَ دَوَاءَ دَائِهِ فَلَا يَطْلُبُهُ وَ إِنْ وَجَدَهُ فَلَا يَتَدَاوَى بِه‏

✍🏼 #تعجب ہے اس پر جو اپنے مرض کی دوا کو جانتا ہے لیکن اس کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا، اور اگر حاصل بھی ہوجائے تو اس سے علاج نہیں کرتا❗️

📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص331، الفصل الثاني بلفظ عجبت
📚تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص232، معرفة النفس و علائمه

💢عجِبْتُ لِمَنْ عَرَفَ سُوءَ عَوَاقِبِ اللَّذَّاتِ كَيْفَ لَا يَعِف‏

✍🏼#تعجب ہے اس پر جو شہوت پرستی کے انجام سے واقف ہے، پھر بھی اس سے باز نہیں آتا❗️

📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص329، الفصل الثاني بلفظ عجبت
📚تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص303، ذم اللذات

💢عجِبْتُ لِمَنْ يَتَصَدَّى لِإِصْلَاحِ النَّاسِ وَ نَفْسُهُ أَشَدُّ شَيْ‏ءٍ فَسَاداً فَلَا يُصْلِحُهَا وَ تَعَاطَى إِصْلَاحِ غَيْرِه

✍🏼#تعجب ہے اس پر جو لوگوں کی اصلاح کے لئے تو پیش پیش رہتا ہے، جب کہ بد اخلاقیوں میں وہ دوسروں سے بدتر ہوتا ہے اور اپنی اصلاح نہیں کرتا، اور دوسروں کی اصلاح میں پڑا رہتا ہے❗️

📚عيون الحكم و المواعظ (لليثي)، ص330، الفصل الثاني بلفظ عجبت
📚تصنيف غرر الحكم و درر الكلم، ص240، تهذيب النفس

⁉️⁉️⁉️⁉️⁉️