علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

بدھ، 10 جنوری، 2018

#فقر_غربت


🌹حضرت امیرالمومنین علیه السلام

📗إنَّ الأَشْیاءَ لَمّا ازْدَوَجَتْ إزْدَوَجَ الْکَسَلُ وَ الْعَجْزُ فَنَتَجا بَیْنَھما اَلْفَقْرَ

📜جس وقت تمام چیزوں نے آپس میں عقد کیا، کاہلی اور عاجزی نے  آپس میں شادی کی اور انہوں نے فقر اور غربت کو جنم دیا!

📚الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏5، ص86، باب كراهية الكسل؛ وسائل الشيعة، ج‏17، 60 ، باب كراهة الكسل في أمور الدنيا و الآخرة 

✍🏼تمام چیزیں سعی و کوشش سے حاصل ہوتی ہیں، یہ ایسی حقیقت ہے جسے اسلام نے ہمیں سکھایا ہے۔

💢سستی، کاہلی، عجز و ناتوانی ایسی چیزیں ہیں جنکا جذبہ ایمانی کے ساتھ کوئی لگاؤ نہیں۔

💢اسی سے فقر و غربت کا جنم ہوتا ہے چاہے وہ مال و دولت کی فقیری ہو یا اخلاق، دین و مذہب کی۔ 
⚠️⚠️⚠️⚠️⚠️

#اسلام_کیا_ہے؟


📗نہج البلاغہ سے📖

✨لأَنْسُبَنَّ الْإِسْلَامَ نِسْبَةً لَمْ يَنْسُبْهَا أَحَدٌ قَبْلِي‏✨

💠 میں اسلام کی ایسی صحیح تعریف بیان کرتا ہوں جو مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی.

✍🏻 حضرت امیر المومنین (ع) اپنے اس فصیح و بلیغ ارشاد میں اسلام کی ایسی تعریف فرماتے ہیں، اور اس کو بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ چھ جملوں میں اس طرح سمیٹتے ہیں کہ اسلام کی پوری تصویر سامنے آجائے اور ایک سچے مسلمان کی حقیقت بیان کرجائے۔

✨ الْإِسْلَامُ هُوَ التَّسْلِيم‏ ✨

💠 «اسلام سر تسلیم خم کرنا ہے»

✍🏻 خدا کے حکم پر، پیغمبر اکرم (ص) اور ائمۂ معصومین (ع) کے ارشادات سامنے، اور عقل و فطرت کے فرمان کے سامنے سراپا تسلیم ہو جانا۔ 

📖 قرآن مجيد، آل عمران/۸۳ میں خدا فرماتا ہے:

🌸 أ فَغَير دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَ لَهُ أَسْلَمَ مَن فىِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ طَوْعًا وَ كَرْهًا۔۔۔۔

🔷کیا یہ لوگ دینِ خدا کے علاوہ کچھ اور تلاش کررہے ہیں جب کہ زمین و آسمان کی ساری مخلوقات بہ رضا و رغبت یا بہ جبر وکراہت اسی کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔۔۔

 ✨و التَّسْلِيمُ هُوَ الْيَقِين‏ ✨

💠 «اور سر تسلیم جھکادینا یقین ہے»

🔴 يقين کیا ہے؟   

✍🏻 امام رضا(ع) : 

🔷إنَّ الْإِيمَانَ أَفْضَلُ مِنَ الْإِسْلَامِ بِدَرَجَةٍ وَ التَّقْوَى أَفْضَلُ مِنَ الْإِيمَانِ بِدَرَجَةٍ وَ لَمْ يُعْطَ بَنُو آدَمَ أَفْضَلَ مِنَ الْيَقِينِ.

🔸ايمان اسلام سے ایک درجہ بڑھ کر ہے اور تقوی ایمان سے افضل اور یقین سے زیادہ عظیم اور بافضیلت شے انسان کو عطا نہیں کی گئی۔

📚تحف العقول، ص 445، و روي عنه ع في قصار هذه المعاني

✍🏻راغب اصفهانی یقین کے معنی میں لکھتے ہیں:

🔷الْيَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة و الدّراية و أخواتها، يقال: علم يَقِينٍ، و لا يقال: معرفة يَقِينٍ، و هو سكون الفهم مع ثبات الحكم‏

🌸 يقين علم کی صفات میں سے ہے جو درایت و معرفت سے بالاتر ہے۔۔۔۔ یعنی استدلال اور حکم کے ثابت ہونے کے بعد جو عقل و فہم کو #سکون ملتا ہے۔ 

📚مفردات ألفاظ القرآن، ص892، يقن 

✨ و الْيَقِينُ هُوَ التَّصْدِيق‏✨

💠 « اور یقین تصدیق ہے»

✍🏻یعنی جب تک «تصديق» نہ ہو «يقين» کی کوئی خبر نہیں، اور جب تک یقین حاصل نہ ہو جائے تسلیم کی کیفیت کہ جو روح اسلام ہے وجود بشر سے دور نظر آئے گی۔

✔️ اسلام لوگوں کو ایسے ایمان کی دعوت دے رہا ہے جو عقیدے  اور عمل کی پابندی کے ذریعے دین کی تصدیق کرے۔ 

✨ و التَّصْدِيقُ هُوَ الْإِقْرَارُ ✨

💠 « اور تصدیق اقرار ہے»

✍🏻 یہ اس بات کی جانب اشاره ہے کہ فقط قلبی تصدیق کافی نہیں بلکہ اس کا زبان سے اقرار بھی ہونا چاہئے۔ اور کلمہ کی صورت زبان پر جاری ہونا چاہئے۔

✔️ اور اسی بنیاد پر جب تک کوئی کلمہ نہیں پڑھ لیتا مسلمان نہیں مانا جاتا۔ 

✨ و الْإِقْرَارُ هُوَ الْأَدَاء ✨

💠 « اور اقرار ادائے فرض ہے»

✍🏻 یہاں پر «اداء» سے مراد ذمہ داری کا احساس، ہمیشہ تیار رہنا اور عمل کے لئے عزم راسخ رکھنا ہے۔

✳️اس لئے کہ اگر اقرار دل سے ہوگا تو اسے فرائض اور واجبات کے انجام دینے کی طرف کھینچ لائے گا۔ 

اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ اقرار و اعتراف بس ایک جھوٹے دعوے کے سوا کچھ نہیں❗️

✨ و الْأَدَاءُ هُوَ الْعَمَل‏✨

💠« اور ادائے فرض عمل ہے »

📚نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص491 ، حکم [120] 125.

✍🏻 اس لئے کہ جو شخص اپنی ذمہ داریوں کے پورا کرنے کا مستحکم ارادہ رکھتا ہے وہ فورا میدان عمل میں کود پڑتا ہے اور اس احساس ذمہ داری کے تحت جو اسکے واقعی اعتراف، یقین اور تسلیم کے ذریعہ اس کے وجود میں پیدا ہوئی ہے اعمال صالح انجام دیتا ہے۔
  
💯یہ اس حقیقی #اسلام کی تفسیر ہے  جو انسان کے قلب میں رسوخ کرگیا ہو اور اس کی علامتیں اور نشانیاں اس کے اعمال کے ذریعہ یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔🌷
✅✅✅✅✅

#تین_شیطانی_چیزیں


♨️انانیت

♨️♨️اعمال کا غرور

♨️♨️♨️گناہ کو ہلکا سمجھنا۔

🌹🌹پیغمبر اکرم صلّي الله علیہ و آلہ:

🔹 بيْنَمَا مُوسَى ع جَالِساً إِذْ أَقْبَلَ إِبْلِيسُ........ فَقَالَ مُوسَى فَأَخْبِرْنِي بِالذَّنْبِ الَّذِي إِذَا أَذْنَبَهُ ابْنُ آدَمَ اسْتَحْوَذْتَ عَلَيْهِ قَالَ إِذَا أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ وَ اسْتَكْثَرَ عَمَلَهُ وَ صَغُرَ فِي عَيْنِهِ ذَنْبُه‏

💢حضرت موسي عليه السّلام تشریف فرما تھے کہ شیطان ان کے سامنے آیا۔۔۔۔۔ حضرت موسي علیہ السلام نے اس سے سوال کیا: 

🔹مجھے وہ گناہ بتا کہ جب انسان اس کا مرتکب ہوتا ہے تو تو اس پر مسلط ہوجاتا ہے  ؟ ابليس نے جواب دیا:

1️⃣ جب وہ خودپسند بن جائے، انانیت کا شکار ہوجائے.

2️⃣ اور اپنے اعمال کو بہت زیادہ سمجھنے لگے۔

3️⃣ اور اس کے گناہ اس کی نظر میں چھوٹے ہوجائیں۔

📚ا الكافي (ط - الإسلامية)، ج‏2، ص314، باب العجب؛ تفسير نور الثقلين، ج‏4، ص352، [سورة فاطر(35): الآيات 1 الى 11] 

⚠️⚠️⚠️⚠️⚠️