علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

منگل، 5 دسمبر، 2017

خدا کے ساتھ رہو

#با_خدا_باش

🌹پادشاہی کن🌹

✍🏼خلیل اللہ حضرت ابراهیم علیہ السلام کو توحید پرستی کے جرم میں آگ میں ڈالا گیا

▪️لوگوں نے کئی روز تک لکڑیاں جمع کیں

▪️لکڑیاں اتنی زیادہ اور شعلے اتنے بلند کہ کوئی پاس نہ جاسکے

▪️پرندے بھی وہاں سے گذریں تو جل جائیں

▪️مجبورا انہیں منجنیق کا سہارا لینا پڑا تاکہ ابراہیم کو آگ میں پھینک سکیں

▪️نمرود ایک بلندی سے دیکھ رہا تھا

🔹جب ابراہیم (ع) کو منجنیق میں رکھا گیا تاکہ آگ میں پھینک سکیں، جبرئیل نازل ہوئے اور کہا: يا إبراهيم هل لك إلي من حاجة؟ اے ابراہیم کیا کوئی مجھ سے حاجت ہے.

🔸فرمایا: اما إليك فلا، تم سے تو نہیں

✅ لیکن پرودگار سے ضرور ہے (ابراہیم کا خدا اس کے لئے کافی ہے)

قُلْنا يا نارُ کُوني‏ بَرْداً وَ سَلاماً عَلي‏ إِبْراهيمَ
تو ہم نے بھی حکم دیا کہ اے آگ ابراہیم (علیہ السّلام) کے لئے سرد ہوجا اور سلامتی کاسامان بن جا

📚تفسير القمي، ج‏2، ص73، [سورة الأنبياء(21): الآيات 51 الى 72]؛ النور المبين في قصص الأنبياء و المرسلين (للجزائري)، ص103، الفصل الثاني في بيان ولادته ع و كسر الأصنام و حال أبيه و ما جرى له مع فرعون

🔵اسے کہتے ہیں خدا کے ساتھ ہونا۔۔۔۔

🔹کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔۔

🔸آگ کا پہاڑ بھی...
🌸🌸🌸🌸🌸

علی (ع) غریب ہوگئے

⁉️کیا علی (ع) کسی غریب کا نام ہے⁉️

✅حضرت علی(ع) مال و دولت کے لحاظ سے کوئی غریب شخص نہ تھے؛ سماج کے بڑے سے بڑے امیروں کی طرح بہترین آرام و آسائش کی زندگی گذار سکتے تھے لیکن۔۔۔ 

🔵اس روایت کو دیکھئے...

📔عنْ عَبْدِ الْأَعْلَى مَوْلَى آلِ سَامٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع إِنَّ النَّاسَ يَرْوُونَ أَنَّ لَكَ مَالًا كَثِيراً فَقَالَ مَا يَسُوؤُنِي ذَاكَ إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ع مَرَّ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نَاسٍ شَتَّى مِنْ قُرَيْشٍ وَ عَلَيْهِ قَمِيصٌ مُخَرَّقٌ فَقَالُوا أَصْبَحَ عَلِيٌّ لَا مَالَ لَهُ فَسَمِعَهَا أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع فَأَمَرَ الَّذِي يَلِي صَدَقَتَهُ أَنْ يَجْمَعَ تَمْرَهُ وَ لَا يَبْعَثَ إِلَى إِنْسَانٍ شَيْئاً وَ أَنْ يُوَفِّرَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ بِعْهُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ وَ اجْعَلْهَا دَرَاهِمَ ثُمَّ اجْعَلْهَا حَيْثُ تَجْعَلُ التَّمْرَ فَاكْبِسْهُ مَعَهُ حَيْثُ لَا يُرَى وَ قَالَ لِلَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ إِذَا دَعَوْتُ بِالتَّمْرِ فَاصْعَدْ وَ انْظُرِ الْمَالَ فَاضْرِبْهُ بِرِجْلِكَ كَأَنَّكَ لَا تَعْمِدُ الدَّرَاهِمَ حَتَّى تَنْثُرَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ يَدْعُوهُمْ ثُمَّ دَعَا بِالتَّمْرِ فَلَمَّا صَعِدَ يَنْزِلُ بِالتَّمْرِ ضَرَبَ بِرِجْلِهِ فَنُثِرَتِ الدَّرَاهِمُ فَقَالُوا مَا هَذَا يَا أَبَا الْحَسَنِ فَقَالَ هَذَا مَالُ مَنْ لَا مَالَ لَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِذَلِكَ الْمَالِ فَقَالَ انْظُرُوا أَهْلَ كُلِّ بَيْتٍ كُنْتُ أَبْعَثُ إِلَيْهِمْ فَانْظُرُوا مَالَهُ وَ ابْعَثُوا إِلَيْهِ.

✍🏼عبد الاعلی کہتے ہیں:
میں نے امام صادق (ع) سے عرض کیا لوگ آپ کو بہت مالدار سمجھتے ہیں، آپ(ع) نے فرمایا: انہوں نے کیا غلط کہا۔

👈🏼👈🏼حضرت علی علیہ السلام ایک دن قریش کے کچھ لوگوں کے پاس سے گذر رہے تھے، جبکہ آپ(ع) پرانا اور پیوند لگا لباس زیب تن کئے ہوئے تھے، انہوں نے آپس میں کہا علی(ع) تنگ دست ہوگئے، یہ آواز امام کے کانوں سے ٹکرائی، اپنے صدقات جمع کرنے پر مامور شخص سے کہا: اس سال کی کھجوروں کو لے آؤ اور کسی کو کچھ نہ بھیجو، اور سب کو اکٹھا کردو، پھر اس سے فرمایا: ان سب کو بیچ دو، اور اس کے عوض سکوں کو جمع کرو، اس نے امیرالمومنین (ع) کے حکم کی تعمیل کی۔ امام نے کہا ان کو کھجوروں کے انبار میں ڈال دو اور اس طرح چھپادو کہ کوئی دیکھنے نہ پائے اور مزدور سے کہا: جب میں کجھوریں لانے کو کہوں تو اوپر جانا اور ان سکوں کو اپنے پیروں سے ماردینا اس طرح کہ وہ بکھر جائیں. پھر کسی کو بھیجا تاکہ قریش کے ان لوگوں بلا لائے،  اور ان کے سامنے اپنے مزدور سے کھجور لانے کو کہا، پس جب وہ کجھور اتارنے کے لئے چڑھا تو پیر سے ماردیا اور سارے درہم بکھر گئے، قریش کے لوگوں نے پوچھا، یا ابا الحسن اس قدر دولت کہا سے آگئی؟! 

فرمایا: یہ اس کی دولت ہے جو دولتمند نہیں، اور غریب ہوگیا ہے، (ان لوگوں کے جانے کے بعد) پھر آپ (ع) نے حکم دیا جن غریب و نادار گھرانوں کو ہر سال کجھور بھیجا کرتے تھے اس مرتبہ ان کے بدلے ان کی قیمت کے مطابق سکے بھیج دیں۔

📚الکافی، ج 6، ص 439

⭕️زہد کا مطلب فقیری نہیں⭕️

🌷🌷🌷🌷🌷

خود پر رحم کرو

#خود_پر_رحم_کرو

✍🏼ایک شخص نے حضرت رسول خدا صلی علیہ و آلہ کی خدمت عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا کریں کہ خدا ہم پر رحم کرے ؟

👈🏼فرمایا:

1️⃣ ارحَمْ نَفسَكَ،

2️⃣ و ارحَمْ خَلقَ اللّه ِ 

3️⃣يرحَمْكَ اللّه 

📚كنز العمّال، 44154؛ تفسیر معین، ص580

✅پہلے خود پر رحم کرو، ہم گناہ کرتے ہیں ہمارا بدن جہنمی ہوجاتا ہے یہ بے رحمی ہے؛ زیادہ کھانا کھالیں تو جسم کو نقصان ہوتا ہے، خود پر رحم کرنا تمام چیزوں کو شامل ہے: جسم، روح، نامحرم کو دیکھنا، جھوٹ بولتے ہو یادداشت کمزور ہوجاتی ہے خود پر بے رحمی کررہے ہو، جھوٹ بولنا حافظہ کو کمزور بناتا ہے ، گالی بکنا دعا کو قبول نہیں ہونے دیتا۔ لہذا پہلے خود پر رحم کرو پھر فرمایا لوگوں پر رحم کرو حدیث بھی ہے  اِرْحَم تُرحَم رحم کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے(بحاالانوار، ج 74، ص 394) 

✅دوسرے فرمایا اللہ کی مخلوق پر رحم کرو، جانور، درخت، موجودات، جنگل، باغ، شہر، پانی، دریا، تمام خلقت سب ایک کلمہ میں کہ اگر ہم چاہتے ہیں رحمت الہی ہمارے شامل حال رہے  رحم کریں یعنی محترم اپنے گھر والوں، والد محترم اپنے بچوں، ڈرائیور صاحب اپنے مسافروں، دوکاندار بھائی اپنے خریدار، ملازم یا آفیسر صاحب اپنے پاس آنے والوں پر۔۔ اگر ہم سبھی ایک دوسرے پر رحم کریں گے خدا بھی ان شاء اللہ ہم پر رحم فرمائے گا۔

👈🏼استاد رفیعی دامت برکاتہ
🌹🌹🌹🌹🌹