#گفتگو
#ہم_کیا_کہہ_رہے_ہیں؟
🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام:
🟤 لَيْسَ لَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ بِمَا شِئْتَ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ وَ لا تَقْفُ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ وَ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ رَحِمَ اللَّهُ عَبْداً قَالَ خَيْراً فَغَنِمَ أَوْ صَمَتَ فَسَلِمَ۔
🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جو چاہو زبان سے کہہ دو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے پیچھے مت جانا۔ اور جیسا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا ہے: اللہ اس بندے پر رحمت فرمائے جو اچھی بات کہے اور فائدہ حاصل کرے، یا خاموش رہے اور سلامتی پائے۔
📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۶، باب نوادر العلل
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 انسان کے پاس خدا کی بہت سی نعمتیں ہیں، ان میں سے ایک عظیم نعمت زبان ہے: أَ لَمْ نَجْعَلْ لَهُ عَينَينِ، وَ لِسانًا وَ شَفَتَينِ۔ کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں قرار دی ہیں اور زبان اور دو ہونٹ بھی۔ [البلد: ۸-۹]
زبان بیک وقت نعمت بھی ہے اور ذریعۂ امتحان بھی؛ اسی سے انسان کی پہچان ہوتی ہے، اسی کے ذریعہ خدا کا اعتراف کیا جاتا ہے؛ اس سے نکلا ہوا ایک جملہ کسی کو خوش کر سکتا ہے تو کسی کو رنجیدہ، کسی کی عزت بچا سکتا ہے، تو کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
جیسا کہ حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
▫️ إِنَّ هَذَا اللِّسَانَ مِفْتَاحُ كُلِّ خَيْرٍ وَ شَرٍّ فَيَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يَخْتِمَ عَلَى لِسَانِهِ كَمَا يَخْتِمُ عَلَى ذَهَبِهِ وَ فِضَّتِه.
▫️ زبان تمام اچھائیوں اور برائیوں کی کنجی ہے، لہٰذا مومن کو چاہیے کہ اپنی زبان پر اسی طرح مہر لگا کر رکھے جیسے اپنے سونے چاندی پر لگاتا ہے۔
📚 تحف العقول، ص۲۹۸، و روي عنه ع في قصار هذه المعاني
حضرت امام سجاد علیہ السلام بھی اپنی نصیحت میں زبان پر قابو رکھنے کی تاکید فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ زبان رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بغیر تحقیق اور اطمینان کے ہر بات کہنے کے مجاز ہیں۔
بغیر سوچے سمجھے بولنا صرف ایک شخص کی اپنی غلطی نہیں، بلکہ بہت سی افواہوں، لوگوں کی آبروریزی اور سماج میں اختلاف اور نفرت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
بہت سے مواقع پر خاموشی اچھی چیز ہوتی ہے اور اس کا پہلا فائدہ یہ کہ انسان جھوٹ، غیبت، بہتان، تمسخر، تہمت، اور دل آزاری جیسے بہت سے گناہوں اور خدا کے غضب سے محفوظ رہتا ہے۔
لہٰذا بولنے سے پہلے ایک لمحہ رکیں۔
کیا یہ بات سچ ہے؟
کیا اس کا کہنا ضروری بھی ہے؟
اگر ضروری ہے تو کیا میرا انداز درست ہے؟
اور اگر مجھے علم ہی نہیں تو کیا خاموش رہنا زیادہ محفوظ نہیں؟
کیونکہ ہم جو بھی کہتے ہیں اس کے لیے خدا کی بارگاہ میں ذمہ دار ہیں۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام بھی اس کی جانب متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
▫️ لَا تَقُلْ مَا لَا تَعْلَمُ بَلْ لَا تَقُلْ كُلَّ مَا تَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَى جَوَارِحِكَ كُلِّهَا فَرَائِضَ يَحْتَجُّ بِهَا عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَ يَسْأَلُكَ عَنْهَا۔
▫️ جو بات تم نہیں جانتے اسے نہ کہو، بلکہ ہر وہ بات جو جانتے ہو وہ سب بھی نہ کہو؛ کیونکہ خدا نے تمہارے تمام اعضاء کے فرائض مقرر فرمائے ہیں جن کے ذریعہ وہ روز قیامت تم پر حجت قائم کرے گا اور اس کے بارے میں تم سے سوال کرے گا۔
📚 من لا يحضره الفقيه، ج۲، ص۶۲۶، باب الفروض على الجوارح
