علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔

علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات

اتوار، 18 اکتوبر، 2026

#نشست_و_برخاست



#نشست_و_برخاست


#ہم_کس_کے_ساتھ_بیٹھتے_ہیں؟


🌹🌹 حضرت امام زین العابدین علیہ السلام:


🟤 لَيْسَ لَكَ أَنْ تَقْعُدَ مَعَ مَنْ شِئْتَ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ‏ وَ تَعَالَى يَقُولُ‏ إِذا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آياتِنا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَ إِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطانُ فَلا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرى‏ مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ‏۔


🔵 تمہیں یہ حق نہیں کہ جس کے ساتھ چاہو بیٹھو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری نشانیوں کے بارے میں بے ربط بحث کررہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری بات میں مصروف ہوجائیں اور اگر شیطان غافل کردے تو یاد آنے کے بعد پھر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھنا۔


📚 علل الشرائع، ج۲، ص۶۰۵، باب نوادر العلل


▫️▫️▫️▫️▫️


✍🏼 ہم ہر روز کسی نہ کسی غرض سے ایک دوسرے سے ملاقات کیا کرتے ہیں، اور کسی نہ کسی جلسے کا حصہ بھی ہوتے ہیں۔


ہماری یہ رفت و آمد معمولی نہیں ہوتی۔ یہ جہاں دوسروں پر اثر ڈالتی ہے، وہیں ہم پر بھی اثر چھوڑتی ہے، اور بالآخر اس کی کچھ نہ کچھ جھلک ہماری شخصیت میں ضرور آجاتی ہے؛ اگر اچھے لوگوں کا ساتھ ملا تو اس سے اچھائیاں کسب ہوتی ہیں اور اگر برے لوگوں کی مصاحبت میں آئے تو برائیوں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔


یعنی انسان کی شخصیت صرف اس کے اپنے اعمال سے نہیں بنتی، بلکہ اس ماحول سے بھی بنتی ہے جس میں وہ رہتا، اٹھتا بیٹھتا اور گفتگو کرتا ہے۔


اسی لیے اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات میں صحبت اور نشست و برخاست کو خاص اہمیت حاصل ہے۔


جیسا کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام آیت کریمہ سے استناد کرتے ہوئے اپنے ارشاد میں اشارہ فرما رہے ہیں کہ ہر کسی کے ساتھ رفت و آمد مناسب نہیں ہے۔


صحبت کا اثر ہمیشہ محسوس نہیں ہوتا، مگر آہستہ آہستہ انسان کے مزاج، زبان، سوچ اور ترجیحات کو بدل دیتا ہے؛ جس بات پر انسان پہلے حیران ہوتا تھا، بار بار سننے کے بعد وہ اسے معمولی سمجھنے لگتا ہے؛ جس گناہ کو پہلے برا سمجھتا تھا، مسلسل ماحول میں رہنے سے اس کی قباحت دل سے کم ہوسکتی ہے۔


لہٰذا ایک مؤمن کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے:


میں کن لوگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہوں؟


ان کی باتیں مجھے اللہ کے قریب کرتی ہیں یا دور؟


ان کی صحبت میرے اخلاق کو بہتر بناتی ہے یا خراب؟


احادیث میں جہاں اچھے، نیک و صالح لوگوں کے ساتھ مصاحبت کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ نیک بننے میں مدد مل سکے، وہیں ظالم اور برے لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست سے ممانعت کی گئی ہے۔


جیسا کہ حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:


▫️ جَالِسْ‏ أَهْلَ‏ الْخَيْرِ تَكُنْ‏ مِنْهُمْ‏ بَايِنْ أَهْلَ الشَّرِّ وَ مَنْ يَصُدُّكَ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ ذِكْرِ الْمَوْتِ بِالْأَبَاطِيلِ الْمُزَخْرَفَةِ وَ الْأَرَاجِيفِ الْمُلَفَّقَةِ تَبِنْ مِنْهُمْ۔


▫️ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو، تاکہ تم ان میں سے ہو جاؤ؛ اور برے لوگوں سے، نیز ہر اس شخص سے جو  باطل اور گڑھی ہوئی خوشنما باتوں اور بے بنیاد قصّوں کے ذریعے تمہیں اللہ عزّ و جلّ کے ذکر اور موت کی یاد سے غافل کرے، دور رہو، تاکہ ان سے الگ شمار کیے جاؤ۔


📚 من لا يحضره الفقيه، ج۴، ص۳۸۵، و من ألفاظ رسول الله ص الموجزة التي لم يسبق إليها


https://t.me/klmnoor


https://www.facebook.com/klmnoor