۱۴/ ربیع الاول
#مرگ_یزید_بن_معاویہ
سنہ ۶۴ ہجری میں، ۱۴ ربیع الاول کی رات، یزید بن معاویہ بن ابی سفیان ۳۹ یا ۳۷ یا ۳۵ سال کی عمر میں واصل جہنم ہوا۔
[مسار الشیعہ، ص۵۰؛ اقبال، ج۳، ص۱۱۸؛ ص۱۶؛ توضیح المقاصد، ص۷؛ تاریخ طبری، ج۴، ص۳۸۳۔۔۔]
مرگ یزید کے متعلق دوسرا قول اس مہینہ کی ۱۵ تاریخ کا ہے۔
[تاریخ طبری، ج۴، ص۳۸۹؛ تاریخ دمشق، ج۵۹، ص۳۰۵۔۔۔]
یزید کی ماں میسون بنت بجدل کلبی ہے۔ یہ وہ عورت ہے جس نے اپنے باپ کے غلام کو اپنے اوپر اختیار دیا اور اسی سے یزید ملعون دنیا میں آیا۔ اسی بنا پر ائمہ علیہم السلام کے فرمان کے مطابق، امام حسین علیہ السلام کا قاتل ولد الزنا ہوگا، اس میں شمر، عمر بن سعد، ابن زیاد اور دیگر افراد بھی شامل ہیں۔
وہ شراب پینے والا، جوا کھیلنے والا، بندر پالنے والا، محارم کے ساتھ نکاح کرنے والا، کفریہ اشعار کہنے والا اور نماز ترک کرنے والا شخص تھا۔ جیسا کہ دمیری نے حیات الحیوان اور مسعودی نے مروج الذھب میں لکھا ہے: اس کے پاس بہت سے بندر تھے جنہیں وہ ریشمی اور خوبصورت لباس پہنا کر، اور سونے کے طوق سے سجا کر گھوڑوں پر سوار کرتا تھا، نیز اس کے پاس بہت سے گردن میں طوق پڑے ہوئے کتے تھے جنہیں وہ خود اپنے ہاتھوں دھویا کرتا تھا اور ان کا جھوٹا پانی پیا کرتا تھا اور شراب کی عادت سے مست و مخمور رہا کرتا تھا۔
[حیاۃ الحیوان، ج۱، ص۷۴؛ مروج الذھب، ج۲، ص۷۲؛ معالم المدرستین، ج۳، ص۲۱، ۲۲؛۔۔۔]
وہی تھا جس نے جانسوز واقعۂ کربلا کو برپا کیا، اور امام حسین علیہ السلام، ان کے اہلِ بیت اور اصحاب کو شہید کیا، امام زین العابدین علیہ السلام، جناب زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور فاطمی خواتین کو بازاروں اور گلیوں میں اسیر کر کے لے گیا۔
وہی تھا جس نے خانۂ خدا کو ویران کیا اور پردۂ کعبہ کو جلایا۔ اسی نے واقعۂ حرّہ میں مدینہ میں مہاجر و انصار کی عورتوں کی عصمت دری کروائی اور تین دن تک شہر میں لوگوں کی جان، مال، اور عزت کو اپنے سپاہیوں پر حلال کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ایسے بچے پیدا ہوئے جن کا کوئی معین باپ نہ تھا۔ اس کے بعد مدینہ میں قتل و غارت ہوئی اور حرمِ شریفِ نبوی کی حرمت پامال کی گئی، اور لوگوں کو روضۂ مطہر کے اندر قتل کیا گیا۔
یزید کی موت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اچانک کسی بلا میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوا۔ شیخ صدوق علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: یزید رات کو نشے کی حالت میں سویا اور صبح اسے مردہ پایا گیا، جبکہ اس کے جسم کی صورت اس طرح بدل چکی تھی جیسے اس پر تارکول مل دیا گیا ہو۔ اس کا منحوس جسم دمشق کے باب الصغیر میں دفن کیا گیا۔
احمد بن حنبل اور اہل سنت کے دیگر بہت سے علماء نے یزید پر لعنت کو جائز قرار دیا ہے، اور ان میں سے بعض یزید کے کفر کے قائل ہیں، اور ابن جوزی نے یزید کے رد میں ایک کتاب بھی لکھی ہے۔
[فیض العلام، ص۲۱۴؛ شرح احقاق الحق، ج۲۳، ص۱۱۲؛ تذکرۃ الخواص، ص۲۵۷۔۔۔]
اس دن امام حسین علیہ السلام کی زیارت مناسب ہے۔
[بحار الانوار، ص۹۸، ص۱۰۱]
📚 تقویم شیعہ، عبد الحسین نیشابوری، انتشارات دلیل ما، ۱۴/ ربیع الاول، ص۱۳۵
https://t.me/klmnoor
https://www.facebook.com/klmnoor
علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات پر مشتمل۔
علوم آل محمد علیہم السلام، احادیث، مواعظ، دینی معلومات
