#سخاوت
▫️ حضرت امام علی علیہ السلام:
▫️ السَّخَاءُ مَا كَانَ ابْتِدَاءً- [فَإِذَا] فَأَمَّا مَا كَانَ عَنْ مَسْأَلَةٍ فَحَيَاءٌ وَ تَذَمُّمٌ۔
▫️ سخاوت وہ ہے جو ازخود اور بغیر مانگے کی جائے؛ لیکن جو کچھ کسی کے مطالبے پر دیا جائے، وہ یا تو شرم و حیا کی بنا پر ہوتا ہے یا ملامت سے بچنے کے لیے۔
📚 نهج البلاغة (للصبحي صالح)، ص۴۷۸، ح [۵۱] ۵۳
▫️▫️▫️▫️▫️
✍🏼 سخاوت کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ انسان کے باطن میں موجود ایک ایسی کیفیت اور فضیلت ہے جو اسے مستحقین اور حاجت مندوں کو کسی عوض کے بغیر اپنا مال عطا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
اس طرح اگر کوئی شخص کسی سے درخواست کرے اور اپنی حاجت بیان کرکے اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر لگائے، تو اس کے بعد جو مال اسے بطورِ عطیہ دیا جاتا ہے، وہ حقیقت میں اس کی آبرو کے عوض دیا گیا ہے۔ ایسی عطا کو آسانی سے سخاوت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
اسی طرح درخواست کے بعد کی جانے والی بخشش کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عطا نہ کی جائے تو درخواست کرنے والا یا وہ لوگ جو اس معاملے سے واقف ہو جائیں، عطا نہ کرنے والے کو ملامت اور مذمت کا نشانہ بنائیں گے۔ لہٰذا ایسی بخشش دراصل لوگوں کی ملامت سے نجات کے عوض ہے اور یوں وہ بھی کسی نہ کسی عوض سے خالی نہیں۔ عام تعبیر میں اسے محض پاس و لحاظ یا شرمندگی سے بچنے کے لئے دینا کہا جا سکتا ہے۔
لہذا خالص اور حقیقی سخاوت یہ ہے کہ انسان باعزت اور خوددار حاجت مندوں کی ضرورت سے آگاہ ہونے پر، پوشیدہ طور پر ان کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کرے اور مطالبے کی نوبت نہ آئے۔
قرآن مجید نے سورۂ بقرہ میں انفاق کی اہمیت اور اس کے آثار و برکات کے ذکر کے ساتھ، ایسے لوگوں پر خرچ کرنے کی خصوصی تاکید کی ہے جو کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہیں کرتے اور ان کی عفت اور خودداری کی وجہ سے ناواقف لوگ انہیں خوش حال سمجھتے ہیں۔ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِیَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسیمَاهُمْ لاَ یَسْئَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا "ناواقف لوگ ان کی حیا اور عفت کی بنا پر انہیں مال دار خیال کرتے ہیں؛ حالانکہ تم آثار سے ان کی غربت کا اندازہ کرسکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر سوال نہیں کرتے"۔ [سورۂ بقرہ، آیت۲۷۳]
آیات و روایات میں سخاوت کی اہمیت کے بارے میں بہت کچھ بیان ہوا ہے۔ چنانچہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی ایک حدیث میں منقول ہے: السَّخاءُ خُلْقُ اللّهِ الاْعْظَمِ "سخاوت اللہ تعالیٰ کی عظیم صفت ہے"۔ [کنز العمال، میزان الحکمہ کے حوالے سے، مادۂ سخاء]
ایک دوسری حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: السَّخَاءُ مِنْ أَخْلَاقِ الْأَنْبِيَاءِ وَ هُوَ عِمَادُ الْإِيمَانِ وَ لَا يَكُونُ مُؤْمِنٌ إِلَّا سَخِيّاً ''سخاوت انبیاء کے اخلاق میں سے ہے، یہ ایمان کا ستون ہے، اور کوئی مؤمن ایسا نہیں جو سخی نہ ہو''۔ [بحار الانوار، ج۶۸، ص۳۵۵، ح۱۷]
بیشک سخاوت جتنی زیادہ ہو، اور کسی بھی مادی یا معنوی عوض سے پاک ہو اور مکمل طور پر ازخود کی جائے، اتنی ہی زیادہ قدر و قیمت کی حامل ہوگی۔
📚 پیام امام امیر المومنین علیہ السلام، آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی، ج۱۲، ص۳۳۹۔
https://www.facebook.com/klmnoor
